.

ایران کے جوہری خطرے کے خلاف برطانیہ اور امریکا ایک صفحے پر ہیں: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام برطانیہ اور امریکا دونوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں ملک مل کر کام کرنے سے متفق ہیں۔

برطانیہ کے دورے کے دوران وزیراعظم تھریسا مے کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بریگزٹ برطانیہ کے لیے 'بہت زبردست موقع' ہے اور برطانیہ جو بھی کرے، وہ میرے لیے ٹھیک ہے۔

وزیراعظم مے نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ ایک 'پرعزم' منصوبے پر بات کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے ہرصورت میں روکنا ہے اور مسز تھریسا مے بھی ان سے متفق ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ تہران کی جوہری سرگرمیوں اور خطے میں ایرانی مداخلت پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔

صدر ٹرمپ کے خلاف پارلیمنٹ سکوئر کے علاوہ لندن کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دونوں رہ نماؤں نے بعض ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی پشت پناہی کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا اور برطانیہ دیرینہ اتحادی ہیں۔

نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا: سن اخبار کا انٹرویو 'عمومی طور پر ٹھیک' تھا لیکن اس میں انھوں نے مے کے بارے میں جو مثبت باتیں کی تھیں وہ نظر انداز کر دی گئیں۔

مے نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ خارجہ پالیسی، ممکنہ تجارتی معاہدے اور دفاع کے علاوہ 'خصوصی تعلقات' پر بات کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے 'دہشت گردی کی کچھ ناقابلِ یقین باتوں' پر تبادلۂ خیال کیا ہے اور انھوں نے گذشتہ رات کو بھی ڈیڑھ گھنٹے تک وزیرِ اعظم مے سے بات چیت کی تھی۔

قبل ازیں ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے تھریسا مے کو ’بریگزٹ‘ کے بارے میں مشورے دیے تھے مگرانہوں نے ان کے مشورے نظر انداز کر دیے، اور کہا کہ 'اگر میں یہ کرتا تو بالکل مختلف طریقے سے کرتا۔' صدر ٹرمپ نے لندن کےپاکستانی نژاد میئر صادق خان کی کار کردگی پر بھی شدید نکتہ چینی کی۔