.

تیونس : اسامہ بن لادن کے جرمنی سے بے دخل سابق محافظ سے تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں القاعدہ تنظیم کے مقتول بانی اسامہ بن لادن کے سابق محافظ "سامی العیدودی" سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔تیونسی حکام کی جانب سے یہ اعلان جرمنی سے سامی کو تیونس کے حوالے کیے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ سامی گذشتہ 20 برس سے زیادہ عرصے سے جرمنی میں مقیم تھا۔

تیونس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق عدالتی ترجمان سفیان السلیطی نے بتایا کہ جرمن حکام نے جمعہ کو تیونسی شہری "سامی" کو بے دخل کر دیا تھا۔ یہ کارروائی سامی کے خلاف تیونس سے جاری ہونے والے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر عمل میں آئی۔ ترجمان کے مطابق تیونس کی جنرل پراسیکیوشن نے دہشت گردی سے متعلق جرائم کی چھان بین کرنے والی قومی ٹیم کو سامی سے تحقیقات کی اجازت دے دی ہے۔

السلیطی نے مزید بتایا کہ سامی العیدودی نے افغانستان میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور پھر وہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا ذاتی محافظ بن گیا۔ اس کے علاوہ سامی جرمنی میں شدت پسندی کی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا۔

تیونس نے مئی میں جرمن حکام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سامی کو کسی قسم کے تشدد یا غیر انسانی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

بن لادن کے 41 سالہ سابق محافظ سامی کی جرمنی میں موجودگی پر گذشتہ چند ماہ کے دوران میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور عوامی حلقوں نے اس کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔اس عوامی غیظ و غضب کے بعد ہی اس کو جرمنی سے بے دخل کرکے تیونس کے حوالے کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سامی العیدودی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 1997ء میں تیونس سے جرمنی گیا تھا۔ دو برس بعد 1999ء میں اس نے افغانستان کا سفر کیا اور القاعدہ تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی اور وہ اسامہ بن لادن کا ذاتی محافظ بن گیا۔ بعد ازاں وہ جرمنی لوٹ آیا اور وہاں مستقل طور پر قیام پذیر ہوگیا تھا۔