.

اریٹریا کے صدر 22 برس بعد ایتھوپیا کے دورے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایتھوپیا میں سرکاری میڈیا کے مطابق اریٹریا کے صدر اِسیاس افورقی ہفتے کے روز تین روزہ دورے پر ادیس ابابا کے ہوائی اڈّے پہنچے۔ گزشتہ دنوں دونوں ملکوں کے درمیان حالتِ جنگ کے اختتام کے اعلان کے بعد اریٹریا کے صدر کا 22 سال میں یہ ایتھوپیا کا پہلا دورہ ہے۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے ہوائی اڈّے پر صدر افورقی کا استقبال کیا۔

اس موقع پر ادیس ابابا میں ہوائی اڈّے کی شاہراہ پر ہزاروں افراد دونوں سربراہوں کی تصاویر سے مزین قمیضیں پہن کر موجود تھے۔ بجلی کے کھمبوں پر دونوں ملکوں کے پرچم آویزاں کیے گئے تھے۔

یہ دورہ امن عمل کے سلسلے میں ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد کے اریٹریا کے دورے کے پانچ روز بعد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد برسوں سے جاری عداوت اور تنازع کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس نئی پیش رفت کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا جب ایتھوپیا کے وزیراعظم نے سرحد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرنے اور متنازع اراضی اریٹریا کے حوالے کرنے پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

ایتھوپیا کے سرکاری ریڈیو کے مطابق افورقی کے دورے کے دوران اریٹریا کے سفارت خانے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں پیش رفت سامنے آئے گی۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے گزشتہ ہفتے اریٹریا کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے اریٹریا کے صدر اسیاس افورقی کے ساتھ دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس اقدام نے سرحدی تنازع پر جنگ کے بعد تقریبا 20 برس سے جاری عسکری بحران کا خاتمہ کر دیا۔

دونوں افریقی ممالک ایک دوسرے کے یہاں بند سفارت خانے کھولنے، فضائی پروازیں بحال کرنے اور ایک دوسرے کی بندرگاہیں استعمال کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان 1990ء کے عشرے میں جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 80 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سال 2000ء میں دونوں ملکوں کےدرمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا مگر دو طرفہ سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوسکے تھے۔