.

دبئی کی فرم ابراج کے پاکستانی نژاد بانی عارف نقوی کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے اتوار کو پرائیویٹ ایکویٹی فرم ابراج کے پاکستانی نژاد بانی عارف نقوی اور ایک اور ایگزیکٹو کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج کردیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ درخواست گزار کی جانب سے چیک باؤنس ہونے کا مقدمہ واپس لینے کے بعد کیا ہے۔

استغاثہ کی دستاویز کے مطابق عارف نقوی اور کمپنی کے ایک اور ایگزیکٹو محمد رفیق لاکھانی نے ابراج گروپ ہی کے ایک اور بانی حصص دار حمید جعفر کو 17 کروڑ 71 لاکھ درہم ( 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز) کا چیک جاری کیا تھا مگر یہ کیش نہیں ہوا تھا جس پر انھوں نے ان دونوں کے خلاف مناسب رقم کی بنک کھاتےمیں عدم موجودگی کے باوجود چیک جاری کرنے پر نالش کرد ی تھی۔

شارجہ میں ایک عدالت کے جج نصیر السوسی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار اپنے دعوے کی پیروی سے دستبردار ہوگیا ہے،اس لیے یہ کیس ختم کیا جاتا ہے۔عدالت کے اس اعلان کے بعد عارف نقوی کے وکیل حبیب الملّا نے صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے باؤنس ہونے والے چیک کا معاملہ طے پا گیا تھا۔اس کے علاوہ حمید جعفر کے واجب الادا قرضے کی رقم سمیت تیس کروڑ ڈالرز کے معاملات طے پا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے۔ہم پراسیکیوشن پر زور دیں گے کہ وہ عارف نقوی کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کو واپس لے لے۔اس کے بعد ان کے ملک واپس آنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی‘‘۔

دوسری جانب حمید جعفر کے ایک مشیر نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے سوالوں کے جواب میں کہا ہے کہ عارف نقوی کے ساتھ عبوری معاملہ طے پایا ہے اور حتمی معاملہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔انھوں نے 30 کروڑ ڈالرز کی رقم کا معاملہ طے پانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

شارجہ کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے گذشتہ ماہ عارف نقوی اور لاکھانی کے خلاف چیک باؤنس ہونےکے اس مقدمے کے بعد وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے ۔عارف نقوی اس وقت یو اے ای سے باہر ہیں اور لاکھانی نے بھی عدالت کے اعلان کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

عارف نقوی کے خلاف اس مقدمے کے اخراج سے ابراج گروپ کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان پر ابراج گروپ کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔انھوں نے یہ گروپ 2002ء میں دبئی میں قائم کیا تھا اور اس کے زیر انتظام 14 ارب ڈالرز کے مختلف اثاثے تھے۔

ابراج گروپ ’’کے مین آئلینڈز‘‘ میں رجسٹرڈ ہے ۔اس کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات منظر عام پر آنےکے بعد اس کے معاملات ایک عدالت نے اپنی نگرانی میں لے لیے تھے اور کے مین آئلینڈز کی اس عدالت نے اس گروپ کی ری سٹرکچرنگ کے لیے لیکویڈیٹرز کا تقرر کیا تھا۔

ابراج کے زیر انتظام ایک ارب ڈالرز کے صحت عامہ ایک فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے چار اداروں میں سے دو بل اور میلنڈا گیٹس اور عالمی بنک نے رقوم کے غلط استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بعد سرمایہ کاروں نے اپنے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کردیا تھا لیکن ابراج گروپ کسی بھی غلط کاری کی تردید کررہا ہے۔

واضح رہے کہ عارف نقوی نے فروری میں ابراج کے معاملات دو چیف ایگزیکٹوز کے سپرد کردیے تھے اور اس کو دو کمپنیوں ابراج ہولڈنگز اور ابراج انویسٹمنٹ مینجمنٹ لٹڈد ( اے آئی ایم ایل) میں تقسیم کردیا تھا اور اے آئی ایم ایل کو فروخت کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ وہ خود اس وقت ابراج ہولڈنگز کے سب سے بڑے حصص دار ہیں ۔

امریکا میں قائم ایک کمپنی ’کالونی‘ نے گذشتہ ماہ لاطینی امریکا ، سب صحارا افریقا ، شمالی افریقا اور ترکی میں فنڈز کو چلانے والے مینجمنٹ یونٹ کو خرید کرنے کی پیش کش کی تھی۔