.

نائیجیریا میں بوکو حرام کے حملے کے بعد 23 فوجی لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نائیجیریا میں شدت پسند گروہ ’بوکو حرام‘ نے ملک کے شمال مشرقی ریاست میں گھات لگا کر کیے گئے ایک حملے میں دو درجن کے قریب فوجیوں کو اغواء یا قتل کردیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق بورنو ریاست کے دارالحکومت مایڈو گوری میں ایک فوجی افسر نے بتایا کہ ’بوکو حرام‘ کے اچانک کیے گئے حملے میں ان کے 23 اہلکار لا پتا ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے کے لاپتا ہونے والوں میں 5 افسر اور18 سپاہی شامل ہیں۔

نائیجیریا کے فوجی افسر نے بتایا کہ ’بوکو حرام‘ کے دہشت گردوں نے بال گائی گاؤں کے علاقے بوبوشی فوجیوں کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔

جُمعہ کے روز نائیجیریا کی فوج کو یہ اطلاعات ملی تھیں کہ بوبوشی کے مقام پر 100 دہشت گرد جمع ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان کے خلاف آپریشن کی تیاری کی گئی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فوجی عہدیدار نے بتایا کہ ’بوکو حرام‘ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں شامل 11 میں سے صرف تین گاڑیاں واپس آئی ہیں۔ آٹھ کا ھنوز کوئی پتا نہیں۔ ہم آٹھ فوجی گاڑیوں اور کئی فوجیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی نائیجیریا میں بوکو حرام کی بغاوت کے نتیجے میں 20 ہزار افراد ہلاک اور 26 لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں۔