.

ایران کے جوہری راز چُرانے کے لیے موساد کے ایجنٹوں نے کس طرح دراندازی کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری رازوں تک اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے رسائی اور کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں دستاویزات کے کامیابی سے اِفشا ہونے کی تفصیلات اتوار کے روز امریکا کے تین اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آنا شروع ہو گئیں۔ اسرائیل نے ان اخبارات کو فراہم کردہ تفصیلات میں بتایا اُس کی انٹیلی جنس کے ایجنٹوں نے کس طرح یہ کارروائی کی۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی ایجنٹوں نے رواں برس 31 جنوری کو ایرانی دارالحکومت تہران کے ایک تجارتی علاقے میں واقع گودام میں دراندازی کی اور وہاں 6 گھنٹے 29 منٹ گزارے ۔ اس دوران انہوں نے وارننگ الارم سسٹم کو معطّل کیا، دو مرکزی دروازوں کو عبور کیا، 32 بہت بڑی تجوریوں کو کھولا اور قیمتی خزانہ لے کر وہاں سے باہر نکل آئے۔ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ہاتھ آنے والے خصوصی دستاویزات اور خفیہ مواد کا مجموعی وزن تقریبا نصف ٹن ہے۔

امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے موساد ایجنسی کے ایرانی جوہری خفیہ آرکائیو تک پہنچنے اور دستاویزات کے نکالے جانے کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات اور مواد سے ثابت ہوتا ہے کہ تہران وہ تمام اشیاء جمع کر چکا ہے جو اسے منظّم طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے مطلوب ہیں۔ اس امر کی تصدیق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپریل میں ایک ٹیلی وژن خطاب میں بھی کی تھی۔ تاہم ایران نے اس امر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے جن دستاویزات کا دعوی کیا ہے وہ جعلی ہیں۔

موساد نے کارروائی سے قبل ایک سال تک مذکورہ گودام کی نگرانی کی جس کے نتیجے میں تصدیق ہوئی کہ گودام کے صبح کے پہرے داروں کی ٹیم سات بجے تک پہنچتی ہے لہذا موساد کے ایجنٹوں کو حکم دیا گیا کہ وہ صبح پانچ بجے سے پہلے گودام سے کوچ کر جائیں۔ موساد کے ایجنٹوں نے رات 10:30 بجے گودام میں دراندازی کی۔ ان کے پاس ایسے آلات تھے جن سے نکلنے والی آگ کا درجہ حرارت 3600 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ گودام میں موجود 32 ضخیم حجم کی فولادی تجوریاں کاٹنے اور کھولنے کے واسطے کافی تھا۔ البتہ موساد کے ایجنٹس وقت کی کمی کے سبب تمام تجوریاں کھولنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے پہلے کالے غلاف سے ڈھانپی گئی تجوریوں کو نشانہ بنایا۔

مقررہ وقت ختم ہو جانے پر موساد کے ایجنٹوں نے اپنے ساتھ 50 ہزار صفحات، 163 سی ڈیز اور وڈیو گرافس لے کر گودام سے باہر کا رخ کیا۔

امریکی اخبارات سے قبل رواں برس مئی میں اسرائیلی ٹی وی چینل 7 نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو حاصل ہونے والی دستاویزی معلومات کے حوالے سے ایک رپورٹ نشر کی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے دستاویزات کے حصول کے ایک ماہ بعد ان کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ ایرانی اداروں نے اس دراندازی کا انکشاف کر لیا تھا اور انہوں نے کارروائی کرنے والوں کے تعاقب کی کوشش کی تاہم وہ فرار ہو گئے۔ البتہ موساد کے ایجنٹوں نے ایرانی سرحد کس طریقے سے عبور کی یہ بات ابھی تک نامعلوم ہے۔