.

خاتون سے مصافحہ پر ایرانی ریفری مشکل میں پھنس گئے

علی فغانی کے خاتون سے مصافحے نے وطن واپسی کٹھائی میں ڈال دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے بین الاقوامی ریفری علی رضا فغانی نے کہا ہے کہ روس میں ہونے والے فٹ ورلڈ کپ کےدوران ان کے ایک کھلاڑی کی اہلیہ سے مصافحے اور معانقےسے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ان کی وطن واپسی مشکل ہوگئی ہے۔

علی رضا فغانی کا کہنا ہے کہ وطن واپسی پر اسے غیرضروری پوچھ تاچھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اس کی وطن واپسی کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن ایسوسی ایشن’فیفا‘ نے ہفتے کے روز انگلینڈ اور بیلجیم کی فٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے مقابلے کی ریفری کی ذمہ داری علی فغانی کو سونپی تھی۔ اس میچ میں بیلجین ٹیم فاتح قرار پائی تھی۔

مگرعلی فغانی کے لیے مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بُدھ کے روز ان کے ایک ساتھی کھلاڑی کی اہلیہ نے لوجنکی اسٹیڈیم میں کروشیا اور انگلینڈ کے درمیان میچ کے موقع پر علی فغانی سے ہاتھ ملایا اور گلے ملی تھیں۔ خاتون کی ایرانی کھلاڑی سے مصافحے اور معانقے کی تصاویر نے ایرانی سوشل میڈیا پر کہرام مچا دیا اور صارفین نے اس پر شدید تنقید کی۔ آغاز میں علی فغانی نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو مسترد کردیا اور کہا کہ لوگ فروعی نوعیت کے معاملات کو بلا جواز اچھال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصافحہ کرنےوالی خاتون میرے ایک دوست کی اہلیہ اور میری بھی دست ہیں۔ مجھے اس کے ساتھ مصافحے پر متنازع بنا کر پیش کرنے پر افسوس ہے۔

معاملہ سوشل میڈیا تک رہتا تب بھی کوئی بات نہ تھی مگر ایران کی سرکاری فٹ بال فیڈریشن نے فغانی کی ایک اجنبی عورت سے ملاقات کا نوٹس لے لیا اور ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فغانی کو عورت سے ہاتھ ملانے اور اسے گلے لگانے کی واقعے کی وضاحت کرنا ہوگی۔

سرکاری موقف کے جواب میں علی فغانی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میں اس تصرف اورطرزعمل کو نہیں سمجھ سکا۔ جس خاتون نے مجھ سے مصافحہ کیا اسے میں 2013ء سے جانتا ہوں۔ اس کے شوہر کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس نے مجھ سے اس وقت ہاتھ ملایا جب بیلجیم اور انگلینڈ کے درمیان میچ کی ہار جیت کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ وہ مجھے اس ذمہ داری پر مبارک باد پیش کرنا چاہتی تھیں۔

سنہ 1978ء کو ایران کے شہر کاشمر میں پیدا ہونے والے علی فغانی ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے ریفری رہ چکے ہیں اور اب وہ عالمی فٹ بال فیڈریشن ’فیفا‘ کے بین الاقوامی ریفری ہیں۔