.

سعودی مخیّر کیسے دنیا بھر میں سات ہزار سے زیادہ یتمیٰ کی کفالت کررہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک مخیّر شہر ی سترہ سال کی عمر سے دنیا بھر میں یتیموں کی کفالت کررہے ہیں۔ان کا نام علی الغامدی ہے۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے سفر پر جاتے رہتے ہیں اور وہاں یتیموں کو بنیادی ضروریات اور تعلیم کی تکمیل کے لیے رقوم کی دستیابی کو یقینی بناتے ہیں ۔

انھوں نے اب تک جن یتیم طلبہ کی کفالت کی ہے،ان میں یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالشکور بھی شامل ہیں۔ وہ بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے ۔اس کے بعد وہ علی الغامدی کے زیر انتظام ایک یتیم خانے میں پروان چڑھے اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔پھر انھوں نے اپنے ملک ہی میں طب کی اعلیٰ تعلیم اس عزم کے ساتھ حاصل کی کہ وہ اپنی کمیونٹی میں واپس جا کر خدمات انجام دیں گے۔

غامدی بتاتے ہیں کہ انھوں نے جب اپنی جوانی میں بعض افریقی ممالک کے سفر کیے تو وہ وہاں غُربت کی بلند شرح اور لوگوں کا پست معیار ِزندگی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے۔

’’انھیں نہ صرف زندگی کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں بلکہ وہ تعلیم بھی حاصل نہیں کرسکتے تھے جس سے کہ وہ اپنی زندگیوں کا معیار بلند کر سکتے۔میں نے ان کے جو مناظر دیکھے وہ میرے ذہن میں اٹک کرر ہ گئے اور میں انھیں ذہن سے نکال نہیں سکا تھا ۔میں افریقا سے پہلے فلپائن میں گیا تھا تاکہ وہاں یتیموں کی کوئی مدد کرسکوں‘‘۔انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔

انھوں نے اپنے خیراتی کام کی نوعیت کے بارے میں بتایا کہ ’’میں نے اسکول جانے والے بچوں کے لیے جماعتوں کے کمرے بنوائے۔انھیں اسکو ل جانے میں مدد دی اور ان اس انداز میں کفالت کی کہ وہ خود کو اسکول میں اپنے ہم جولیوں کے ہم پلہ سمجھیں اور ان میں کسی طرح کی کمتری کا کوئی احساس پیدا نہ ہو۔ میں نے مصر ، ایتھوپیا ، سوڈان ، کینیا ، کومروس ، چڈ ، نیجر ، یوگنڈا اور دوسرے ممالک میں بھی حاجت مندوں کی امداد کے لیے کام کیے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اس وقت دنیا بھر میں اکیس یتیم خانوں میں سات ہزار یتمیٰ اور دو ہزار حاجت مند خاندانوں کی مدد کررہے ہیں لیکن انھیں اس نیک کام میں کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی مدد مہیا نہیں کی گئی ہے اور سرکاری حکام کی سرد مہری کے بعد انھوں نے ازخود ہی یہ کام جاری رکھا۔وہ اس نیک کام میں کویتی مخیّر شخصیت عبدالرحمان السمیت سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

علی الغامدی کہتے ہیں کہ ’’ مجھے بعض اوقات یتمیٰ کے اداروں کو رقوم مہیا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے اور اس قرض کو لوٹانے کے لیے کسی اور ادارے سے مزید قرض لینا پڑتا ہے لیکن جب کبھی میرا عز م ٹوٹا ہے تو میری بیوی میری مدد کو آجاتی ہے.اس نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا اور میری ہمت بندھائی ہے‘‘۔ان کے ہاں تیرہ سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی لیکن اب ان کے چار بچے ہیں۔ان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں ۔