.

صدر ٹرمپ سے ملاقات بہت کامیاب اور مفید رہی : ولادی میر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ان کی امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ’’بہت کامیاب ‘‘ اور مفید رہی ہے۔

وہ فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں سوموار کو امریکی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی اور شام کی صورت حال سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پوتین نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ان کے درمیان اس پہلی سربراہ ملاقات میں کاروبار دوست کی طرح کا دوستانہ ماحول تھا اور میرے خیال میں بات چیت بہت کامیاب اور مفید رہی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ نے امریکا کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت سے متعلق الزامات کا معاملہ اٹھایا تھا۔میں نے اپنے اس بیان کا اعادہ کیا تھا اور یہ بات میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ روسی ریاست نے کبھی امریکا کے داخلی امور میں مداخلت کی ہے اور نہ وہ اس کی منصوبہ بندی کررہا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ہر کسی پر واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔تاہم ان مشکلات اور موجودہ کشیدہ ماحول کی کوئی معروضی وجوہ نہیں ہیں ‘‘۔

صدر پوتین نے روس اور امریکا کی سکیورٹی سروسز کے درمیان تعاون کو سرا ہا اور کہا کہ ’’وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل تعاون کی حمایت کرتے ہیں ۔‘‘

دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان بات چیت سُپر سے بھی بہتر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے تعلقات میں سرد جنگ کے زمانے کے بعد سے پہلی مرتبہ سرد مہری پائی جارہی ہے۔اس کے بنیادی عوامل میں روس کا ریاست کریمیا کو ضم کرنا ، مشرقی یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت ، امریکا کے صدارتی انتخابات میں مبینہ مداخلت اور شامی تنازع کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ گذشتہ سال بر سر اقتدار آنے کے بعد سے روسی صدر پوتین کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں ۔انھوں نے اسی ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ روس کو دوبارہ گروپ سات میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ دنیا کے سات بڑے ترقی یافتہ ممالک کے اس گروپ نے 2014ء میں کریمیا کو ضم کرنے پر روس کی رُکنیت معطل کردی تھی۔