.

عالمی کپ کے دوران 2.5 کروڑ سائبر حملوں کا سامنا کیا : روسی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتین کا کہنا ہے کہ فٹبال عالمی کپ کی میزبانی کے دوران اُن کے ملک کو تقریبا 2.5 کروڑ سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ پوتین نے ان حملوں کے ذریعے کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ یہ کہ آیا ان کارروائیوں کے پیچھے افراد کا ہاتھ تھا یا پروگرامز کا۔

پیر کے روز کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر پوتین نے یہ بات اتوار کی شام سکیورٹی اداروں کے ساتھ ملاقات کے دوران بتائی۔

روسی صدر نے ان سائبر حملوں کی نوعیت کے بارے میں کسی معلومات کا انکشاف نہیں کیا جو اُن کے مطابق عالمی کپ کے میچوں کے دوران واقع ہوئے۔ واضح ہے کہ فٹبال عالمی کپ کا انعقاد 14 جون سے 15 جولائی تک روس کے 11 شہروں کے 12 اسٹیڈیمز میں ہوا۔

پوتین نے زور دے کر کہا کہ "اس کامیابی کے پیچھے زبردست طریقے سے ہائی الرٹ رہنے، آپریشن، تجزیے اور آگاہی کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہم نے اپنی پوری طاقت کا استعمال کیا"۔

مغربی ممالک بارہا روس پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ اس نے ان ممالک کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈان کوٹس نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ امریکا کو انفارمیشن ہیکنگ کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بالخصوص روس کی جانب سے اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی حکام نے جمعے کے روز روسی انٹیلی جنس کے 12 ارکان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے اکاؤنٹس کو ہیکنگ کا نشانہ بنایا۔ ماسکو کی جانب امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔

روسی صدر کا اعلان اور امریکی الزامات پیر کے روز ہلسنکی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوتین کے درمیان مقررہ سربراہ ملاقات سے کچھ دیر قبل سامنے آئے۔