.

کیا آپ ایسی جمہوریہ کو جانتے ہیں جوصرف 90 دن قائم رہ سکی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا میں ملکوں کے نقشے بدلتے رہتےہیں مگرکوئی ملک اپنے قیام کے نوے دن کے اندراندر اپنا وجود کھو دے تو اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ مگر تاریخ میں ایسا ایک واقعہ رونما ہوچکا ہے جب کہ 1810ء میں براعظم امریکا کے شمال میں ایک ریاست قائم ہوئی جو صرف نوے دن کے اندر اندر ختم ہوگئی تھی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق تاریخ میں اس ریاست کا نام ’مغربی جمہوریہ فلوریڈا‘ ملتا ہے۔ یہ مُملکت جنوبی امریکا میں دریائے میسی سیپی کے مغربی اور دریائے بروڈیڈو کے مشرقی کنارے پر 31 شمال عرض بلد میں امریکا کے جنوب میں واقع تھی۔

ریاست جنوبی فلورڈا صرف نوے دن تک قائم رہی جس کے بعد اس کی املاک ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ضم کردی گئی تھیں۔

اٹھارہویں صدی کے اوائل میں مغربی جمہوریہ فلوریڈا فرانسیسیوں نے قائم کی تھی مگر جلد ہی انہوں نے انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھائی اور یہ ریاست امریکا میں ضم کردی گئی۔

سنہ 1783ء کے معاہدے اور امریکی انقلاب کے بعد امریکیوں کی مدد کرنے پر اسپین کی تکریم کے طورپر یہ علاقے اسے کے حوالے کیےتھے۔ اس سےقبل اس پر انگریزوں کا راج قائم رہا۔

اسپانوی کالونی

سنہ 1803ء میں لویزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت فرانس نے لویزیانا سے دستکشی اختیار کی اور اسے امریکیوں کے حوالے کر دیا۔ مغربی فلوریڈا پر فرانس کی عملا کوئی اتھارٹی نہیں تھی۔ اس علاقے کو اسپین کی کالونی کا درجہ حاصل تھا اور اس میں اسپین کی متعدد فوجی تنصیبات بھی قائم تھیں۔

لویزیانا سمجھوتے کے بعد امریکیوں اور اسپانویوں کے درمیان اختلافات پیداہوئے۔ امریکیوں نے مغربی فلوریڈا کی اراضی پر ملکیت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ جگہ اصل میں فرانسیسی کالونی رہ چکی ہے۔ انہوں نے یہ علاقہ فرانسیسیوں سے خرید کیا تھا۔ اس لیے یہ ان کی ملکیت ہے۔

امریکی انقلاب کے بعد مغربی فلوریڈا میں متعدد امریکی النسل لوگوں کو آباد کیا گیا۔ اس کا مقصد فلوریڈا کی زرعی زمین کو کاشت کاری کے حصول کے لیے حاصل کرنا تھا۔ مغربی فلوریڈا پر اسپانویوں کے قبضے کے بعد امریکیوں نے اسپین کا تسلط ماننےسے انکار کردیا۔ اس کے بعد دونوں میں کئی جنگیں ہوئیں۔ سنہ 1804ء میں بغاوت ناکام ہوئی مگرستمبر سنہ 1810ء امریکیوں کی بغاوت کامیاب ہوگئی او اسپین کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔

نیلا پرچم

مغربی فلوریڈا میں 23 ستمبر 1810ء کو امریکی فلمن تھامس کی قیادت میں اسپین کے پاٹون روگ قلعے پر حملہ کیا۔ لڑائی تین دن جاری رہی جس کے بعد 26 ستمبر کو مغربی فلوریڈا کے نام سے ایک نئی مملکت کےقیام کا اعلان کیا گیا۔ اس نوخیز ریاست کے لیے نیلے رنگ کا پرچم تیارکیا گیا جس کے درمیان میں سفید ستارہ نئی جمہوریہ کی علامت قرار پایا۔

مغربی جمہوریہ فلوریڈا کی انتظامیہ نے سینٹ فرانسسیسفیل شہر کو اس کا دارالحکومت قرار دیا اور امریکی دستور کی طرز پر ایک دستور بھی بنایا۔ آئین ساز کونسل تشکیل دی گئی اور ایک سپریم ایگزیکٹو کونسل کا اعلان کیا گیا۔ اس کونسل نے امریکا کے اس وقت کے صدر کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں مغربی جمہوریہ فلوریڈا کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

27 اکتوبر 1810ء کو پہلی حکومت کےقیام کے تین روز بعد امریکی صدر جیمز میڈسن نے کانگریس سے رجوع کیے بنا اوراسپانویوں یا مغربی فلوریڈا کی نئی حکومت سے بات چیت کے بغیر مغربی فلوریڈا کو امریکا کی ملکیت قرار دینے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے دعویٰ کہا کہ مغربی فلوریڈا انہوں نے فرانسیسیوں سے خرید کر رکھی ہے اور وہ امریکا کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ امریکی صدر نے اورلیانز کے گورنر ولیم کلیپورن کو مغربی جمہوریہ فلوریڈا پر شب خون مارنے کا حکم دیا۔ امریکی فوجیں چھ دسمبر 1810ء کو مغربی جمہوریہ فلوریڈا کے دارالحکومت سینٹ فرانسسیفل میں داخل ہوئیں اور اس کا نیلا پرچم اتار کر امریکا کا جھنڈا لہرا دیا۔

بعد ازاں مغربی فلوریڈا کو تین ریاستوں الاباما، میسی سیپی اور لویزیانا میں تقسیم کردیا گیا۔