.

’روس، چین اور یورپ ہمارے دشمن ہیں‘ پوتین سے ملاقات سے قبل ٹرمپ کا متنازع بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متنازع بیان بازی کے حوالے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں برطانیہ کے دورے سے قبل برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کو بھی شدید تنقید کا بناتے ہوئے ان کی ’بریگزیٹ‘ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ تاہم الگے روز وہ ان سے لندن میں ملاقات کررہے تھے۔

فن لینڈ کے دارالحکومت ھلسنکی میں آج سوموارکو صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ملاقات کررہےہیں۔ مگر ان سے ملاقات سے قبل ’سی بی ایس‘ ٹی وی کو دیے گئےایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’روس، چین اور یورپی یونین ہمارے دشمن ہیں‘۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سے ممالک کی پالیسیوں سے اختلافات ہیں۔ یورپی ممالک ہمارے ساتھ تجارت کے باب میں جو کچھ کررہےہیں تو وہ دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔ روس بھی کئی پہلوؤں سے ہمارا دشمن ہے۔ رہا چین تو وہ ہمارا اقتصادی حریف ہونے کی بناء پر دشمن ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی بات کا پینترا تبدیل کرتےہوئے کہا کہ ’یہ ممالک دشمن ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب بُرے بھی ہیں‘۔

خیال رہے کہ فن لینڈ کے دارالحکومت ھیلسنکی کو امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کےدور میں بھی کافی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس شہر میں امریکا اور روس کی تین سربراہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ ایک مشہور سربراہ ملاقات سنہ 1990ء میں امریکی صدر جارج بش سینیر اور سوویت لیڈر میخائل گورباچوف کے درمیان بھی ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں نے سرد جنگ کے اثرات کم کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو اس ملاقات سے ’بہت کم توقعات ہیں‘۔

سی بی ایس نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اس ملاقات میں ’کوئی برائی نہیں‘ ہے اور ’کچھ اچھا بھی ہو سکتا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ طور پر ہیکنگ میں ملوث 12 روسیوں پر فرد جرم عائد کیے جانے کے معاملے پر وہ بات کریں لیکن کیا ان افراد کو روس منتقل کیا جا سکتا ہے اس بارے میں انھوں نے ابھی تک نہیں سوچا۔

امریکا کے محکمۂ انصاف نے چند روز قبل مبینہ طور پر صدارتی انتخابات میں ہیکنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں 12 روسی باشندوں پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

فن لینڈ میں ٹرمپ اور ولادی میر پوتین کے درمیان ہونے والی ملاقات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدمت کیے گئے ہیں۔ اس ملاقات کی کوریج کے لیے 1500 صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔