.

بی آؤٹ کیو نےعرب سیٹ کی فریکوینسی سے عالمی کپ کے میچ نہیں دکھائے:فیفا کے نام خط

فیفا کو بی آؤٹ کیو کی غیر قانونی نشریات کے معاملے میں غلط ثابت کردیا گیا، جارحانہ بیانات پر فوری معذرت کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب سیٹلائٹ کمیونی کیشنز آرگنائزیشن ( عرب سیٹ ) نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن ( فیفا) کو اطلاع دی ہے کہ ایک ٹیلی ویژ ن چینل بی آؤٹ کیو نے روس میں حال ہی میں ختم ہونے والے فٹ بال عالمی کپ ٹورنا منٹ کے میچوں کو دکھانے کے لیے عرب سیٹ کی فریکوینسوں کو استعمال نہیں کیا تھا۔

عرب سیٹ کی جانب سے فیفا کو ایک تفصیلی خط بھیجا گیا ہے ۔اس میں ثبوت کے ساتھ فیفا کے اس دعوے کو غلط ثابت کیا گیا ہے جس میں اس نے یہ کہا تھا کہ بی آؤٹ کیو ٹی وی چینل عرب سیٹ کی فریکوینسوں کو استعمال کرتے ہوئے سرقہ بازی کرکے اور غیر قانونی طور پر فٹ بال ورلڈ کپ کے میچ سعودی عرب اور دوسر ے ممالک میں دکھا رہا ہے۔

عر ب سیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد بلخیور نے اس خط میں لکھا ہے کہ ’’ عرب سیٹ کو ہمیشہ اس بات کا اعتماد رہا ہے کہ بی آوٹ کیو ہمارا نیٹ ورک استعمال نہیں کررہا ہے۔اس کے باوجود ہم نے کسی بھی شُبے کے ازالے کے لیے بہت مہنگی تحقیقات کی ہیں تاکہ فیفا اور دنیا کو اپنے دعوے کے حق میں ثبوت فراہم کرسکیں ‘‘۔

اس خط میں فیفا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بی آؤٹ کیو نے ہرگز بھی کسی مخصوص وقت میں اس کی فریکوینسیوں کو استعمال نہیں کیا ہے۔ فیفا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بی آؤٹ کیو نے عرب سیٹ کی فریکوینسی 12341 ایم ایچ زیڈ کو عالمی کپ کے میچ غیر قانونی طور پر دکھانے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن ٹیلی مواصلات کے مختلف آزاد ماہرین کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیفا کی بیان کردہ تاریخوں اور اوقات میں اس فریکوینسی سے کوئی ویڈیو مواد نشر نہیں کیا گیا تھا۔اسی طرح عرب سیٹ کی فریکوینسی 11996 ایم ایچ زیڈ سے بھی نشریات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

عرب سیٹ کے فنی ماہرین نے بھی فیفا کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ فریکوینسی کو بلاک کرنے سے بی آؤٹ کیو کی عالمی کپ کی سرقہ نشریات پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا اور صرف بی بی سی ، سکائی نیوز اور سی این بی سی کی قانونی نشریات اس فریکوینسی پر دستیاب تھیں نہ کہ بی آؤٹ کیو کی۔

عرب سیٹ کے ٹیسٹوں سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس سیٹلائٹ سے نشریات پیش کرنے والے دوسرے اداروں نے ممکنہ طور پر بی آؤٹ کیو کی سرقہ نشریات کو استعمال کیا ہوگا۔

بلخیور لکھتے ہیں کہ’’ ہمیں ٹیسٹوں کے نتائج کا ابھی ایک سیٹ موصول ہوا ہے۔اس میں ہمارے ماہرین نے عرب سیٹ کی تمام فریکوینسیوں کو بلاک کردیا تھا لیکن اس کے باوجود بی آؤٹ کیو نے عالمی کپ کے میچ دکھانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا‘‘۔

فنی ماہرین کی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے بی آؤٹ کیو نے غیر قانونی اور سرقہ نشریات دکھانے کے لیے عرب سیٹ کے بجائے کسی اور سیٹلائٹ کو استعمال کیا تھا۔ان تحقیقات سے عرب سیٹ کے اس موقف کو بھی تقویت ملی ہے کہ اس الزام کے پیچھے دراصل الجزیرہ کے ذیلی چینل بی اِن اسپورٹس کا ہاتھ کارفرما ہے کہ بی آؤٹ کیو نے عرب سیٹ کے سیٹلائٹس کو فیفا عالمی کپ کے میچوں کو غیر قانونی طور پر دکھانے کے لیے استعما ل کیا تھا۔اس نے کہا ہے کہ بی اِن اسپورٹس اپنی فنی خامیوں اورنقائص کو دور کرنے کے بجائے دوسروں پر بے بنیاد الزامات عاید کررہا ہے۔

عرب سیٹ نے اس تمام معاملے میں فیفا سے فوری طور پر معذرت کرنے اور یہ بے بنیاد دعویٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ بی آؤٹ کیو کے خلاف غیر قانونی نشریات دکھانے پر کارروائی میں ناکام رہا ہے۔عرب سیٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ اب فیفا کو اس تمام معاملے میں غلط ثابت کیا جاچکا ہے۔اس لیے اس کو جارحانہ بیانات پر فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔