.

سعودی ایوی ایشن اکیڈمی میں پہلی مرتبہ خواتین ہوا بازوں کو تربیت دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ہوابازی کی تربیت دینے والے ایک ادارے نے خواتین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اور وہاں پہلی مرتبہ سعودی خواتین پائیلٹوں کو طیارے اڑانے کی تربیت دی جائے گی ۔

آکسفورڈ ایوی ایشن اکیڈمی کی مشرقی شہر الدمام میں واقع شاخ میں سیکڑوں خواتین نے ہوابازی کی تربیت کے لیے اپنی درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔توقع ہے کہ ستمبر کے اوائل میں اس ادارے میں ان کی تربیت کا آغاز ہوجائے گا۔

ایک سول پائیلٹ بننے کی خواہاں خاتون دلال یشار کا کہنا ہے کہ ’’ پہلے لوگ بیرون ملک شہری ہوابازی کی تربیت کے لیے جانے کے عادی ہوچکے تھے لیکن بیرون ملک خواتین کے لیے شہری ہوابازی کی تربیت مردوں کی بہ نسبت بہت مشکل تھی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایک ایسے دور میں نہیں رہ رہے ہیں جہاں خواتین کو صرف محدود شعبوں ہی میں کام کرنے کی اجازت ہے۔اب خواتین کے لیے تمام اُفق کھلے ہیں ۔اگر آپ میں کوئی کام کرنے کی تڑپ اور لگن ہے تو پھر آپ میں اس کام کو کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے‘‘۔

آکسفورڈ ایوی ایشن اکیڈمی تیس کروڑ ڈالرز کے ایک منصوبے کا حصہ ہے۔اس میں طیاروں کی مرمت کے لیے ایک اسکول بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ ہوائی اڈے پر طیارو ں کو پرواز میں مدد دینے کے لیے ایک بین الاقوامی مرکز بھی قائم کیا گیاہے۔

اس اکیڈمی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عثمان الموطیری نے بتایا ہے کہ ان کے یہاں طلبہ کو تین سالہ تدریسی اور عملی تربیت دی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کے کار چلانے پر عشروں سے عاید پابندی کو گذشتہ ماہ ہی ختم کیا گیا ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی وسیع تر جامع اصلاحات کے تحت کیے گئے اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت کا رُخ پھیرنا اور خواتین کی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔