.

واشنگٹن افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں : نیٹو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں موجود شمالی اوقیانوسی اتحاد (نیٹو) کی فورسز نے پیر کے روز اپنے کمانڈر کے اعلان سے متعلق اِن رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ امریکا تحریکِ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔

امریکی جنرل جون نیکلسن نے قندھار میں افغان عہدے داران کے ساتھ بات چیت کی تھی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ نیکلسن کا کہنا کہ اُن کا ملک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے "تیار" ہے۔ یہ امر واشنگٹن کے اُس پرانے موقف میں واضح تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے جس میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کسی بھی امن عمل کی قیادت کا اختیار کابل حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔

جنرل نیکلسن نے باور کرایا کہ اُن کے تبصرے کو تحریف کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے صرف اُس بات کو دُہرایا تھا جو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جون میں کہہ چکے ہیں۔ پومپیو کی بات کا حاصل یہ تھا کہ واشنگٹن "ممکنہ امن بات چیت" ، اُس کو آسان بنانے اور اس میں شرکت کو "سپورٹ" کرنے کے لیے تیار ہے۔

نیکلسن کا میزد کہنا تھا کہ "امریکا کسی طور بھی افغان عوام یا حکومت کا متبادل نہیں ہے"۔

دوسری جانب افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل مارٹن اوڈونل کے مطابق امریکا امن عمل کو ممکن بنانے کے لیے تمام راستے دریافت کرے گا البتہ اس عمل کی قیادت افغانستان کے پاس ہی رہے گی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے سینئر سفارت کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

طالبان تحریک طویل عرصے سے یہ بات باور کرا رہی ہے کہ وہ صرف امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے جب کہ امریکا کا اصرار رہا ہے کہ بات چیت میں افغان حکومت کو بھی شریک کیا جائے۔