.

واشنگٹن میں روسی خاتون "ایجنٹ" گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت انصاف کے مطابق واشنگٹن میں رہنے والی ایک 29 سالہ روسی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتون پر روسی حکومت کے لیے بطور ایجنٹ کام کرنے کا الزام ہے۔ وہ امریکی شہریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور سیاسی جماعتوں کے اندر رسائی حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھی۔

امریکی وزارت انصاف کی جانب سے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماریا پوتینا نے روسی حکومت میں ایک اعلی سطح کے عہدے دار کی ہدایات پر کام کیا۔ امریکی وزارت خزانہ میں غیر ملکی اثاثوں کی نگرانی کرنے والے دفتر نے مذکورہ عہدے دار پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

بیان کے مطابق پوتینا کو اتوار کے روز گرفتار کیا گیا اور بدھ کے روز عدالت میں پیش کیے جانے تک اسے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

روسی خاتون کی گرفتاری کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی قومی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈان کوٹس نے پیر کے روز بیان دیا کہ امریکی انٹیلی جنس روسی سیاسی مداخلت کے خطرے کے حوالے سے واضح موقف رکھتی ہے اور وہ "معروضی واضح انٹیلی جنس جائزے پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلسنکی میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ 2016ء کے انتخابات میں جیت کے سلسلے میں روس نے اُن کی مدد کے لیے مداخلت کی تھی۔

ڈان کوٹس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہم 2016ء کے انتخابات میں روسی مداخلت اور ہماری جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے لیے ان کی مسلسل اور وسیع کوششوں سے متعلق جائزے کے حوالے سے واضح رہے ہیں"۔