.

ایرانی جنرل کی صدر حسن روحانی پر آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی پر تنقید

ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرسکتا لیکن امریکا اس کو کھلوانے کی صلاحیت رکھتا ہے: میجر جنرل حسین علائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق نیول کمانڈر میجر جنرل حسین علائی نے صدر حسن روحانی اور بعض فوجی عہدے داروں کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

حسین علائی نے ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات کو ہرگز بھی دانش مندانہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ’’ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے جبکہ امریکا ضرور اس کو دوبارہ کھلوانے کی صلاحیت کا حامل ہے‘‘۔

میجر جنرل علائی اس وقت ایران کی آسمان ائیر لائنز کے سربراہ ہیں ۔انھیں ایران کے سیاسی نظام میں اصلاح پسند بلاک کے نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ان کے زیر قیادت فضائی کمپنی پر امریکا نے شام اور مشرقِ اوسط کے دوسرے ممالک میں ایرا ن نواز ملیشیاؤں کو ہتھیار پہنچانے اور دہشت گردی کی حمایت کے الزا م میں پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک جنرل علائی کے اس بیان نے ایران کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ صدر حسن روحانی نے یورپ کے اپنے حالیہ دورے میں ایران کی تیل کی برآمدات پر نئی پابندیوں کی صورت میں پڑوسی عرب ممالک کے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

ایرانی پاسداران ا نقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے صدر حسن روحانی کے اس بیان کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے حکم پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

ان اشتعال انگیز بیانات کے ردعمل میں امریکی بحریہ نے ایک سخت بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تیل بردار ٹینکر وں اور مال بردار بحری جہازوں کی اس اہم آبی گذرگاہ سے آمد ورفت کو یقینی بنانے کے لیے بالکل تیار ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے سیاسی اور فوجی عہدے دار ماضی میں بھی متعدد مرتبہ آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو بھی روک سکتے ہیں۔تینتیس کلومیٹر طویل آبنائے ہُرمز خلیج اومان کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ ایران کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں سے صرف فجیرہ خلیج اومان کے ساتھ واقع ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اسی آہم آبی راستے سے بحری جہازوں کے ذریعے اپنا تجارتی مال اور تیل دنیا کے دوسرے ممالک کو بھیجتے ہیں۔امریکا کی توانائی اطلاعات انتظامیہ (ای آئی اے) کے گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق آبنائے ہُرمز سے ایک کروڑ ستر لاکھ بیرل یومیہ تیل بحری جہازوں کے ذریعے گذرتا ہے۔بہ الفاظ دیگر اس آبی راستے سے تیل کی قریباً تیس فی صد تجارت ہوتی ہے۔