.

ایران جوہری ڈیل ناکام ہونے کی صورت میں یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ عہدہ دار نے کہا ہے کہ اگر یورپ کے ساتھ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے بات چیت ناکام ہوجاتی ہے تو اعلیٰ سطح پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے نائب صدر اور ترجمان بہروز کمال آفندی نے منگل کے روز تہران میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ اگر یورپ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو ہم نے یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کرنے کے لیے بعض اقدامات کر لیے ہیں ‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ہم جولائی 2015ء میں طے شدہ سمجھوتے کی بنیاد پر اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم ہر طرح کے منظرنامے کو ملحوظ رکھیں گے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں اس سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کردی تھیں۔انھوں نے بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھا تو ان کے خلاف بھاری جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

اس سمجھوتے کے یورپی فریق برطانیہ ، فرانس ،جرمنی اور یورپی یونین نے اسی مہینے ایران کو بعض اقتصادی ضمانتیں پیش کی ہیں لیکن تہران حکومت نے ان کو ناکافی قرار دیا ہے اور مزید اقتصادی سہولتیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی ممالک اور ایران کے درمیان اس سمجھوتے کو بچانے کے لیے ابھی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ مذاکرات کئی ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

ایران نے جون میں یورپی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سمجھوتا ختم ہونے کی صورت میں نئی سنٹری فیوجز مشینیں نصب کردی جائیں گی۔تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جوہری ہتھیا ر نہیں بنانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ 2015ء کے سمجھوتے کے تحت ایران یورینیم کو صرف 3.67 تک افزودہ کرسکتا ہے جبکہ جوہری بم کی تیاری کے لیے 90 فی صد تک افزودہ یورینیم درکار ہوتی ہے۔