.

ایران نے سنٹری فیوجز کی تیاری کے لیے روٹر فیکٹری تعمیر کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے ایک ایسی فیکٹری تعمیر کر لی ہےجہاں روزانہ 60 سنٹری فیوجز کے لیے روٹرز تیار کیے جا سکتے ہیں ۔

ان کے اس اعلان سے ایک ماہ قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے متعلقہ اداروں کو مغرب کے ساتھ جوہری سمجھوتا ناکام ہونے کی صورت میں یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کرنے کا حکم دیا تھا ۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق علی اکبر صالحی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نئی فیکٹری سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے آیندہ سات یا آٹھ سال میں اس فیکٹری کو تعمیر کرنے کے بجائے اس کو مذاکرات کے دوران میں بنالیا تھا لیکن اس میں کام شروع نہیں کیا تھا‘‘۔

علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ ’’سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اس پیش رفت سے بروقت اور مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا تھا۔اب انھوں نے اس فیکٹری میں تمام کام شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے‘‘۔اس فیکٹری میں روزانہ 60 آئی آر 6 سنٹری فیوجز کے لیے روٹرز بنانے کی صلاحیت ہے۔

صالحی نے گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے نطنز میں واقع اپنی جوہری تنصیب میں جدید سنٹری فیوجز کی تیاری کے لیے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔

ایرانی عہدے دار اپنی آیندہ کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں روزانہ ہی کوئی نہ کوئی بیان جاری کررہے ہیں ۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے نائب صدر اور ترجمان بہروز کمال آفندی نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر یورپ کے ساتھ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے بات چیت ناکام رہتی ہے تو اعلیٰ سطح پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

انھوں نے کہا:’’ ہم جولائی 2015ء میں طے شدہ سمجھوتے کی بنیاد پر اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم ہر طرح کے منظرنامے کو ملحوظ رکھیں گے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں اس سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کردی تھیں۔انھوں نے بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھا تو ان پر بھاری جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

اس سمجھوتے کے یورپی فریق برطانیہ ، فرانس ،جرمنی اور یورپی یونین نے اسی مہینے ایران کو بعض اقتصادی ضمانتیں پیش کی ہیں لیکن تہران حکومت نے ان کو ناکافی قرار دیا ہے اور مزید اقتصادی سہولتیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی ممالک اور ایران کے درمیان اس سمجھوتے کو بچانے کے لیے ابھی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔

ایران نے جون میں یورپی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سمجھوتا ختم ہونے کی صورت میں نئی سنٹری فیوجز مشینیں نصب کردی جائیں گی۔تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جوہری ہتھیا ر نہیں بنانا چاہتا ہے بلکہ اس کا جوہری پروگرام توانائی کے حصول کے لیے ہے اور وہ اس سے بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔