.

سال 2018ء کے فٹ بال ورلڈ کا حقیقی فاتح افریقا ہے: مادورو

’فرانس کو افریقیوں کا احسان مند اور نسل پرستی چھوڑ دینی چاہیے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے کہا ہے کہ روس میں کھیلے جانے والے عالمی فٹ بال کپ کا اصل فاتح فرانس نہیں بلکہ افریقا ہے۔ ان کا اشارہ فرانسیسی ٹیم میں شامل افریقی النسل کھلاڑیوں کی جانب تھا جن کی محنت کی بدولت فرانس ایک بار پھر فٹ بال کا عالمی چیمپئین بنا ہے۔

ایک سرکاری تقریب سے خطاب میں وینزویلا کے صدر نے کہا کہ فرانس کی قومی فٹ بال ٹیم فی الحقیقت افریقا کی فٹ بال ٹیم ہے۔ یہ اعزاز فرانسیسیوں کو نہیں بلکہ افریقا سے فرانس آئے مہاجرین کو ملا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حقارت اور نفرت سے دیکھا جاتا ہے، مگران افریقی مہاجرین کی اولاد نے فرانس کو دُنیا میں فٹ بال کا عالمی چیمپئین بنا دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو روس میں کھیلے جانے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں کروشیا اور فرانس کے درمیان مقابلہ تھا۔ فرانس نے کروشیا کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر یہ فائنل میچ جیت لیا تھا۔ فرانسیسی فٹ بال ٹیم میں 23 میں سے 14 کھلاڑیوں کا خاندانی پس منظرافریقی ہے۔

صدر مادورو نے کہا کہ افریقیوں کی بدولت میچ جیتنے والے فرانس اور پورے یورپ کو پناہ گزینوں کے حوالے سے نسل پرستی کا سلسلہ بند ترک کر دینا چاہیے۔ انہوں نے عالمی فٹ بال مقابلوں کے موقع پر بہترین انتظامات پر روسی صدر ولادی میر پوتین کو بھی مبارک باد پیش کی۔

خیال رہے کہ فرانس اور وینزویلا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں اور مادورو ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے رہتے ہیں۔ فرانسیسی صدر نے مادورو کو ’ڈکٹیٹر‘ قرار دیا تھا اور وہ 20 مئی کو ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کو تسلیم نہیں کرتے۔