اسٹالن نے سوویت یونین میں یہودی ریاست بنانے کی منصوبہ بندی کیسے کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیسویں صدی کے اوائل میں روس کو شورش زدہ صورت حال کا سامنا تھا۔ اس دوران جاپان اور روس کی جنگ کے نتیجے میں ورکروں کی ہڑتالیں سامنے آئیں۔ ان میں نمایاں ترین واقعہ "خونی اتوار" کی صورت میں سامنے آیا جب 9 جنوری 1905 کو "امپیرئل گارڈز" نے اس کو کچلنے کے لیے بے دھڑک فائرنگ کر دی۔ اس عرصے میں روس میں موجود یہودیوں کو بھی پرتشدد واقعات کا نشانہ بننا پڑا اور اس دوران بہت سے لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔

روسی شہنشاہیئت کے نظام کے خاتمے اور سووین یونین کے قیام کے بعد یہودیوں کے مسئلے نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا۔ اس دوران Bolshevik Party کی جانب سے "ملحدانہ سوچ" سامنے آئی اور اس نے تمام مذاہب کا انکار کر دیا۔ اس کے مقابل روسی خانہ جنگی کے بعد ملک میں کشیدگی کو کم کرنے کے واسطے سوویت یونین کے پہلے قائد کے طور پر کام کرنے والے ولادی میر لینن نے سوویت اراضی پر موجود اقلیات کے ساتھ نیم رواداری کی پالیسی پر انحصار کیا۔

سال 1924ء میں لینن کی وفات اور اقتدار کی چابی جوزف اسٹالن کے ہاتھ میں آنے کے بعد یہودیوں نے سوویت یونین میں اپنا مقام برقرار رکھا اور بہت سے یہودی ریاست کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 1928ء میں اسٹالن نے اپنے منفرد فیصلے میں سوویت اراضی پر یہودیوں کو کو ایک وطن پیش کرنے کی منظوری دے دی۔

ابتدائی طور پر اسٹالن نے یہودیوں کو القرم کے علاقے میں اکٹھا کرنے کا سوچا مگر پھر جلد اس خیال کو ترک کرتے ہوئے یہودیوں کو سائبیریا کے مشرق میں دور دراز علاقوں کی جانب بھیجے جانے کو ترجیح دی۔

سوویت یونین کے مفاد کی خاطر اسٹالن نے 1928ء کے آغاز میں چین کے ساتھ سرحد پر واقع ایک علاقے اور دریائے آمور کی جانب یہودیوں کی اجتماعی ہجرتوں کو منظّم کیا۔

گزشتہ صدی میں 1930ء کی دہائی کے دوران سوویت حکام نے یہودیوں کی مذکورہ علاقے کی طرف ہجرت کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ سوویت حکام نے ملک کے انتہائی مشرق کی سمت منتقل ہونے کے مقابل یہودیوں کو مالی رقوم بھی ادا کرنے کی منظوری دی۔

اس کے بعد 7 مئی 1934ء کو جوزف لینن نے ملک کے مشرق میں چین کے ساتھ سرحد کے نزدیک سرکاری طور پر یہودیوں کے ایک خود مختار ریجن (اوبلاسٹ) کو بنانے کا اعلان کیا۔

اسٹالن نے اس خود مختار ریجن کو "یہودیوں کا ایک وطن" کا نام دیا اور "بیروبیجان" شہر کو اس کے دارالحکومت ہونے کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں اس ریجن میں سکونت پذیر یہودیوں کو پوری آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی روسومات ادا کرنے کی اجازت دی۔

اسٹالن کے اعلان کے بعد یوکین اور بیلا روس کے متعدد یہودیوں نے اس ریجن کا رخ کیا۔ یہاں تک کہ 1937ء مین اس ریجن کی آبادی 20 ہزار ہو گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کی یہود مخالف پالیسی کے نتیجے میں مشرقی یورپ کے متعدد یہودیوں نے بیروبیجان کا رخ کیا۔

اس طرح دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد ریجن کی آبادی 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہو گئی۔

تاہم دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور یورپ میں جرمنی کی شکست کے بعد سوویت رہ نما جوزف اسٹالن نے یہود مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہونا شروع کیا۔ اسٹالن نے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کو جبری کام کے مراکز بھیجا اور یہودی مذہب کے پیروکاروں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے سے روک دیا۔ ساتھ ہی یہودیوں کو عمومی ملازمتوں میں آنے سے روک دیا گیا۔ اسٹالن کی ان پالیسیوں کے سبب یہودیوں کے مذکورہ خود مختار ریجن میں یہودیوں کی تعداد کم ہو گئی اور انہوں نے فلسطینی اراضی کا رخ کرنے کی ٹھان لی۔

سال 1953ء میں اسٹالن کی وفات کے بعد بیروبیجان سے یہودیوں کے کوچ کرنے کے رجحان میں تیزی آ گئی۔ یہاں تک کہ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں اس ریجن میں یہودیوں کی تعداد آدھی ہو گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں