.

افغانستان میں داعش اور طالبان میں لڑائی،300 ہلاک، ہزاروں بے گھر

گلیاں محلے اور سڑکیں لاشوں سے بھر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام کے مطابق مُلک کے شمالی صوبے جوزجان میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ اور طالبان کے درمیان گذشتہ چند روز سے جاری لڑائی کے نتیجے میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبہ جوز جان میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف نکل گئے ہیں، جب کہ لڑائی میں تین سو افراد مارے گئےہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو صوبہ ساری بول میں داعش کے جنگجوؤں نے ایک طالبان لیڈر کے گھر پرحملہ کرکے وہاں پر نماز کی ادائی میں مصروف پندرہ افراد کو قتل کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد طالبان اور داعش کے جنگجوؤں میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

جوزجان کی صوبائی حکومت کے ترجمان محمد رضا غفوری نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں گروپ ایک ہفتے سے زاید عرصے سے درزاب اور قوش طیبہ کے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران کم سے کم تین سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ مرنے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

طالبان اور ’داعش‘ کے شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں اور ان کی تدفین کا کوئی بند بست نہیں ہوسکا ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاھد نے بتایا کہ درزاب میں جاری لڑائی کے دوران ’داعش‘ کوشکست کا سامنا ہے۔ وہ عن قریب علاقے سے داعش کا صفایا کردیں گے۔ حکومتی ترجمان رضا غفوری کے مطابق دونوں گروپوں کےدرمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد صوبائی دارالحکومت شبرغان کی طرف نقل مکانی کرگئے ہیں۔