ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا سے ’’بے فائدہ‘‘ مذاکرات کی تجویز مسترد کردی

صدر حسن روحانی کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے دھمکی آمیز بیان کی تعریف ،نظام کی پالیسی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کردیا ہے ۔انھوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے آبنائے ہُرمز کو بند کرنے سے متعلق حالیہ دھمکی آمیز بیان کو سراہا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق علی خامنہ ای نے وزیر خارجہ جواد ظریف اور متعدد سفراء اور سفارت کاروں کے ہفتے کے روز ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ہم امریکیوں کے بیانات اور ان کے دست خطوں پر کوئی اعتبار نہیں کرسکتے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان کہ اگر ہمارا تیل برآمد نہیں ہوگا تو پھر خطے میں کسی ریاست کا تیل بھی برآمد نہیں ہوگا، ایک بہت اہم موقف ہے اور اس سے نظام کی پالیسی اور حکمتِ عملی واضح ہوجاتی ہے‘‘۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے،جب ایران سے تیل بردار جہازوں کی بیرون ملک روانگی رفتہ رفتہ روکی جار ہی ہے اور تیل بردار جہاز راں کمپنیوں نے نومبر کے اوائل میں امریکی پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران سے کاروباری سودے ختم کرنا شروع کردیے ہیں ۔

صدر حسن روحانی نے یورپ کے اپنے حالیہ دورے میں ایران کی تیل کی برآمدات پر نئی پابندیوں کی صورت میں پڑوسی عرب ممالک کے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

ایرانی پاسداران ا نقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے صدر حسن روحانی کے اس بیان کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے حکم پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو تیار ہیں ۔

ان اشتعال انگیز بیانات کے ردعمل میں امریکی بحریہ نے ایک سخت بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تیل بردار ٹینکر وں اور مال بردار بحری جہازوں کی اس اہم آبی گذرگاہ سے آمد ورفت کو یقینی بنانے کے لیے بالکل تیار ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق نیول کمانڈر میجر جنرل حسین علائی نے صدر حسن روحانی اور بعض فوجی عہدے داروں کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حسین علائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس طرح کے بیانات کو ہرگز بھی دانش مندانہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جبکہ امریکا ضرور اس کو دوبارہ کھلوانے کی صلاحیت کا حامل ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں