اپنے دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کینیا کی ایک عدالت نے 24 سالہ ملکہ حسن روتھ کماندی کو اپنے بوائے فرینڈ کو چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق ملکہ حسن کماندی پرانسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی شدید تنقید کی گئی تھی اور اپنے محبوب کو چاقو کے25 وار کرکے بے رحمی کے ساتھ موت کےگھاٹ اتارنے کے اقدام کو ’غیرانسانی‘ فعل قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ سزائے موت پانے والی 24 سالہ روتھ کماندی نے اپنے ٹرائل کے عرصے میں مقابلہ حسن میں حصہ لیا اور ملک کی ملکہ حسن کا ٹائٹل حاصل کای تھا۔ اس وقت وہ کینیا کی جیل 1095 میں قید تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے سنہ 2015ء کو اپنے بوائے فرینڈ فرید محمد کو چاقو کے پے درپے 25 وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اس کے خلاف قتل کا مقدمہ ملک کی سپریم کورٹ میں چلایا گیا جہاں جمعرات کو خاتون جج جسٹس جیسی لیسیٹ نے ملزمہ کے خلاف کیس کا فیصلہ سنایا۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ نوجوان اس بات کو سمجھیں کہ اپنے دوست کا قتل یا اپنی مایوسی کا بدلہ لینے کے لیے کسی دوسرے کی جان لینا خود اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھی بات تو یہ ہے کہ ہمیں غصہ تھوک کر دوسرے کے ساتھ رواداری اور تحمل کے ساتھ پیش آْنا چاہیے۔

عدالت نے ملزمہ پر ٹرائل کےدوران غیر شفاف برتاؤ کا بھی الزام عاید کیا اور کہا کہ اس نے مقتول نوجوان کے موبائل فون سے ڈیٹا غائب کرنے اور شواہد مٹانے کی کوشش کی تھی۔ جُرم ثابت ہونے پر بھی اس نے کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔

خیال رہے کہ کینیا میں سزائے موت کا قانون برسوں سے رائج ہے مگر سنہ 1987ء کے بعد کسی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی۔

مقتول کے اہل خانہ نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں