.

سعودی عرب دہشت گردی اور ایران کے سامنے ڈھال ہے: خالد بن سلمان

سعودی عرب اسلام کا مضبوط قلعہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعین سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک افراتفری پھیلانے والے عناصر، دہشت گردوں اور ایران کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پرپوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں شہزادہ خالد نے لکھا کہ سعودی عرب کی قیادت اور قوم دونوں ہمیشہ دہشت گردی کے سامنے ڈھال رہے ہیں اور آئندہ بھی وہ دہشت گرد تنظیموں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے اور ایران کی ریشہ دوانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا سعودی عرب وہ پاک سرزمین ہے جہاں اللہ نے اپنے پیغمبر پر وحی نازل کی۔ وہاں مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ سعودی عرب دین اسلام کا محافظ اور انتہا پسندی وغلو کے خلاف مضبوط قلعہ ہے۔

شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ان کے ملک کی پہلی ترجیح ہے۔ الریاض نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیرمعمولی قربانیاں دیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے گروپوں کی بیخ کنی کی۔ القاعدہ اور ’داعش‘ کی سرکوبی کی گئی اور ایران اور دہشت گردی کی مدد کرنے والوں کا ہرمحاذ پر کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ایران ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

سعودی سفیر نے انکشاف کیا کہ 1990ء کے عشرے میں لبنانی حزب اللہ کے لیڈر عماد مغنیہ نے القاعدہ کے بانی اُسامہ بن لادن سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات سے یہ ثابت ہوگیا تھ کہ دونوں تنظیموں کا مشترکہ ہدف سرزمین حرمین ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی سرزمین کو اپنے ناپاک عزائم کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 1996ء میں دہشت گرد حمد المغسل کو ایرانی پاسدارن انقلاب نے عسکری تربیت دی جس نے الخبر ٹاور میں بم دھماکہ کیا۔ المغسل کئی سال تک ایران میں رہا اور سنہ 2015ء کو اسے لبنان سے حراست میں لے کر سعودی عرب منتقل کیا گیا۔ وہ مسلسل ایران کے پاسپورٹ پر سفر کرتا رہا ہے۔