مراکش میں 13 سالہ بچی کے گینگ ریپ کی عدالتی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بچی کو شیطان صفت چار طلباء کے ایک گروپ نے المحمدیہ کے مقام پر قائم فرانسیسی ہائی کمیشن کے زیراہتمام اسکول میں مبینہ طورپر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

آن لائن اخبار ’ہیس پریس‘ کے مطابق ملزمان پر بچی کو گینگ ریپ کا نشانے کی فرد جرد عاید کردی گئی ہے۔ چاروں طلباء کلوڈ مونی فاؤنڈیشن کے اسکول میں زیرتعلیم تھے جہاں زیاتی کا شکار ہونے والی بچی بھی زیرتعلیم ہے۔ فرد جرم میں ملزمان پر بچی کو ورغلانے، دھمکیوں کے ذریعے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور سنگین جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی کی عمر صرف تیرہ سال ہے۔ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے افراد با اثر ہیں اور انہیں بچانے کے لیے المحمدیہ کے علاقے کے سرکردہ حکام بھی سرگرم ہیں۔ با اثر لوگوں کی طرف سے ان کے خاندان اور بچی پر ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی سے دست بردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ جرم کے مرتکب ملزم اس کی بچی کو اسکول کے قریب ایک ویران عمارت میں لے گئے جہاں اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ اس کی تصاویر اور ویڈیو بنائیں اور اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں