امیرِ قطر کو دورہ ٔ برطانیہ میں دہشت گردی کی حمایت پرسخت سوالات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو برطانیہ کے دورے کے موقع پر دہشت گردی کی حمایت پر سخت سوالات کا سامنا ہے۔وہ اتوار کو برطانیہ کے سرکاری دورے پر لندن پہنچے تھے ۔ان کی آمد سے ایک ہفتہ قبل ہی بی بی سی نے قطری حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کو بھاری رقوم دینے سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی ۔اس میں بتایا گیا تھا کہ قطر نے عراق اور شام میں دہشت گرد گروپوں کو اپنے یرغمال شہریوں کی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالرز تاوان کے طور پر ادا کیے تھے۔

شیخ تمیم کو 2014ء میں بھی دورے کے موقع پر برطانوی سیاست دانوں کی جانب سے ایسے ہی سوالات کا سامنا ہوا تھا اور ان سے انتہا پسند گروپوں پر بھاری دولت لٹانے پر پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔لندن سے شائع ہونے والے عرب روزناموں نے برطانوی سفارتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امیرِ قطر اس دورے سے اپنے نظام کا تشخص بہتر بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اس کو دنیا میں دہشت گردی کے ایک اسپانسر ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برطانوی حکام بی بی سی کی رپورٹ میں کیے گئے انکشافات پر نالاں ہیں ۔اس میں بتایا گیا تھا کہ قطر نے عراق کے مسلح گروپ کتائب حزب اللہ کو بھی اپنے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے بھاری رقم ادا کی تھی حالانکہ اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاچکا ہے۔

قطری حزب اختلاف کے ارکان لندن میں امیر ِ قطر کے دورے کے موقع پر احتجاجی مظاہرے بھی کررہے ہیں۔ان میں عرب کمیونٹی کے افراد کی شرکت متوقع ہے۔اس مظاہرے کے منتظمین نے برطانوی سکیورٹی ایجنسی کو اجازت نامے کے لیے دی گئی درخواست میں امیرِ قطر کی جانب سے القاعدہ ، داعش ، حزب اللہ ، اخوان المسلمون اور دوسرے انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں اور ملیشیاؤں کی مالی ،سیاسی اور میڈیا کی امداد کا حوالہ دیا ہے اور ان کی دوسرے ممالک کے داخلی امور میں ننگی مداخلت کا بھی ذکر کیا ہے۔

برطانیہ میں عرب تنظیم برائے انسانی حقوق ،افریقی تنظیم برائے ورثہ اور انسانی حقوق اور خلیج لیگ برائے حقوق اور آزادی نے برطانیہ کے دفتر خارجہ اور دولتِ مشترکہ کو ایک خط لکھا ہے اور اس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ شیخ تمیم سے بات چیت میں قطر میں تارک وطن ورکروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں ، قطر کے بعض شہریوں کی شہریت کی منسوخی ، قطریوں کی سیاسی عمل میں عدم شرکت اور خطے میں دہشت گردی کی حمایت پر توجہ مرکوز کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں