عالمی برادری ایران کے تخریبی کردار کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرے : شہزادہ خالد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکا میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ مغرب اور تمام ممالک کو ایرانی رجیم کے تخریبی کردار سے نمٹنے کے لیے متحد ہونے اور ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یہ بات سوموار کو سعودی روزنامے عرب نیوز میں شائع شدہ ایک مضمون میں لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ آج بھی حالات 1938ء ایسے ہیں ۔اس وقت یورپ ، ایشیا اور افریقا میں توسیع پسندانہ عزائم کی حامل قوتوں نے بین الاقوامی امن کو تہ وبالا کیا تھا اور آج 80 سال کے بعد بالکل اسی طرح کا ایران کی صورت میں خطرہ درپیش ہے ۔وہ اپنی سرحدوں سے باہر تنازعات کو ہوا دے رہا ہے اور انتہا پسند گروپوں کو مسلح کررہا ہے۔

شہزادہ خالد نے اپنی تحریر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے فیصلے کوسراہا ہے اور لکھا ہے کہ ’’یہ سمجھوتا ایرانی نظام کی توسیع پسندانہ خواہشات کو روک لگانے اور خطے میں انتہا پسند گروپوں کی حمایت سے باز رکھنے میں ناکام رہا ہے ’’ ۔

’’ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس موقف سے حوصلہ ملا ہے کہ امریکا ایران سے کسی قسم کی مصالحانہ پالیسی کو بروئے نہیں لائے گا کیونکہ ماضی میں ایسی پالیسیاں نازی جرمنی کو طاقت بننے یا ایک مہنگی کو جنگ رونما ہونے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی تھیں ۔اس لیے اب ہمیں ایرانی نظام کے تخریبی کردار سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع تر حکمت عملی اپنانے اور متحد ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔

وہ لکھتے ہیں کہ ایران کا آئین دنیا میں جہاد کا مشن پھیلانے پر زور دیتا ہے ۔اس سے آیت اللہ خمینی کو اپنے پیروکاروں کو مسلم اور غیر مسلم سرزمین کو مفتوح بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کا موقع مل گیا تھا ۔اسی سے ماورائے قومیت نظریے نے جنم لیا تھا جو حکومتوں کی بین الاقوامی سرحدوں کی حد بندی کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔اس طرح کی پالیسیوں کے سبب ہی ایران معاشی میدان میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

انھوں نے اپنے مضمون میں ایران اور سعودی عرب کی معیشت اور فی کس آمدن کا موازنہ بھی کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ 1978’’ء میں سعودی عرب میں فی کس آمدن 2300 ڈالرز تھی۔آج یہ بڑھ کر 22 ہزار ڈالرز ہوچکی ہے جبکہ ایران میں فی کس آمدن چار ہزار ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ چار عشرے قبل دونوں ممالک کی معیشتیں ایک ہی جیسی تھیں۔ان کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) قریباً 80 ارب ڈالرز تھی ۔آج سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار بڑھ کر قریباً 700 ارب ڈالرز ہوچکی ہے اور یہ ایران سے دُگنا ہے‘‘۔

وہ لکھتے ہیں :’’ حسن روحانی کی صدارت کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔مغرب کی انھیں بااختیار بنانے کے لیے صلح جوئی کی پالیسی سے عام ایرانیوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔جیسا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نشان دہی کی ہے کہ ’’ایرانی رجیم نے جولائی 2015ء میں جوہری سمجھوتے پر دست خط کرنے کے بعد سے کسی ایک شاہراہ کی تعمیر یا بڑے شہری منصوبے پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کی ہے، حالانکہ جوہری سمجھوتے کے نتیجے میں ایران کو ایک سو ارب ڈالرز کی رعایتیں ملی تھیں مگر ایرانی حکومت نے اسکولوں ، سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر پر رقوم صرف نہیں کی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی شہری اس سال کے اوائل سے بنیادی شہری خدمات اور روزگار کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ایران کے برعکس سعودی عرب ترقی اور خوش حالی کے ویژن 2030ء پر عمل پیرا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں یہی دراصل حقیقی تنازع ہے ، نہ کہ سنی اور شیعہ کی تقسیم کا مسئلہ ہے بلکہ یہ مستقبل کے دو مختلف ویژنز کے درمیان تصادم ہے۔نیز سعودی عرب ایران کے حمایت یافتہ داعش ، القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے خلاف جارحانہ انداز میں جنگ لڑرہا ہے۔

انھوں نے تحریر کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر یہ واضح کردے کہ اگر اس نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی اور اپنے ہمسایہ ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی تو اس کے خلاف سفارتی اور اقتصادی محاذوں پر کارروائی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں