.

آسٹریلیا میں 600 انسانی اسمگلر گرفتار کر لئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران انسانی اسملنگ کی روک تھام کے لیے شروع کی گئی مہم کے میں کم سے کم چھ سو انسانی اسمگلر گرفتار کیے ہیں۔

آسٹریلوی وزیر برائے امیگریشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے انسانی اسمگلروں کا تعلق 6 ممالک سے ہے۔

وزیر برائے امیگریشن پیٹتر ڈوٹن نے کہا کہ ’خود مختاری حدود آپریشن‘ میں کے تحت کئی تارکین وطن کو سمندر میں غرق ہونے سے بچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داری میں آنے والے سمندری علاقوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں ستمبر 2013ء کو اقتدار میں آنے والی بنیاد پرست حلقوں کی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی طرف سے ’عدم برداشت پالیسی‘ سے قبل 50 ہزار پناہ گزینوں نے آسٹریلیا میں داخل ہونے کی درخواستیں دی تھیں۔ یہ پناہ گزین 800 کشیوں کے ذریعے آسٹریلیا کی سمندری حدود میں دخل ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق افغانستان، سری لنکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تھا۔ آسٹریلیا کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر کئی پناہ گزین سمندر ہی میں لقمہ اجل بن گئے۔

آسٹریلوی وزیر کہنا ہے کہ گذشتہ چھ برسوں میں 600 انسانی اسمگلر گرفتار کیے گئے۔ 33 بحری جہازوں کو واپس بھیجا گیا اور 2500 پناہ گزینوں کو آسٹریلیا داخلے سے روکا گیا تھا۔