.

امریکا کی ایرانی تیل پر پابندی کی دھمکیوں کا بآسانی جواب دیا جاسکتا ہے: پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایران کی تیل کی بین الاقوامی تجارت کا گلا گھونٹنے کی دھمکیوں کا بآسانی جواب دیا جاسکتا ہے۔یہ بات سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے بدھ کو ایک بیان میں کہی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق میجر جنرل جعفری نے کہا ہے کہ ’’ اگر پاسداران انقلاب کی موجوہ صلاحیتوں کی امریکا کے مہم جو صدر کو بھنک پڑ جائے تو وہ کبھی اس طرح کی غلطی کا ارتکاب نہیں کریں گے اور وہ یہ بات بخوبی سمجھ جائیں گے کہ تیل کی تجارت کو روکنے کی دھمکیوں کا بآسانی جواب دیا جاسکتا ہے‘‘۔

تاہم جنرل جعفری نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اگر امریکا ایران کی تیل کی تجارت پر رکاوٹیں ڈالتا ہے تو وہ اس کے ردعمل میں کیا کر سکتے ہیں۔

امریکا اپنے اتحادی یورپی ممالک پر یہ زور دے رہا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری بند کردیں ۔امریکی حکام نے اس سلسلے میں اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے تجارت کرنے والی مغربی ممالک کی کمپنیوں پر نومبر سے پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے کے روز صدر حسن روحانی کے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات کو روکنے کی دھمکیوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ایرانی صدر نے اسی ماہ سوئٹزر لینڈ کے دورے کے موقع پر ایران کے ہمسایہ ممالک کے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی دھمکی دی تھی اور ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے ان کی تائید میں کہا تھا کہ سپاہ ِپاسداران انقلاب اگر ضروری ہوا تو ایسی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے بالکل تیار ہے۔

ایرانی صدر کی اس دھمکی کے ردعمل میں امریکی فوج کی سنٹرل کمان کے ترجمان نے ایک سخت بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا اور خطے میں اس کے اتحادی بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت کو یقینی بنائیں گے۔اس کے بعد ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے کہا تھا کہ ایرا ن آبنائے ہُرمز کو بند نہیں کرسکتا۔انھوں نے کہا کہ ایرانی صدر روحانی کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی میں بڑی تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔ مشرقِ اوسط کے ممالک سے خام تیل کے جہاز اسی آبی گذرگاہ سے ہوکر ایشیا ، بحرالکاہل ، یورپ ، شمالی امریکا اور اس سے ماورا ممالک میں جاتے ہیں۔