.

ایران کی بڑھتی جاسوسی سرگرمیوں پر جرمنی کا اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی نیشنل انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے پچھلے سال ملک میں ایران کی جاسوسی کی سرگرمیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انٹیلیجنس ادارے کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتباہ کے باوجود ایران، جرمنی میں جاسوسی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

جرمن ریڈیو ’ڈوئچے ویلے‘ کے مطابق منگل کو برلن میں پیش کی گئی ایرانی جاسوسی سرگرمیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی میں سائبر حملوں میں اضافے کے پچھے بھی ایران کا ہاتھ ہے۔ یہ سائبر حملے جرمنی کمپنیوں اور تحقیقی شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

رپورٹ میں جرمن وزیر داخلہ ھورسٹ زیھوفر کا ایک بیان بھی شامل ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2014ء کے بعد جرمنی کے کمپیوٹر سسٹم پر ہونے والے سائبر حملوں میں سے بیشتر کے پیچھے ایران کا ہاتھ رہا ہے۔ سنہ 2017ء کے دوران ایرانی ہیکروں کی طرف سے سب سے زیادہ سائبر حملے کیے گئے۔

یہ رپورٹ جرمن انٹیلی جنس ادارے ’ Verfassungsschutz‘ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ روس، چین اور ایران جرمنی میں جاسوسی کی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔

خیال رہے کہ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ بے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایران سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس بریگیڈ اور ایرانی انٹیلیجنس کے تعاون سے جرمنی میں موجود ایرانی اپوزیشن رہ نماؤں کی جاسوسی کر رہا ہے۔

ادھر امریکی ریاست کولوراڈو میں حال ہی میں منعقد ہونے والی ’اسپن‘ کانفرنس میں بھی سائبرحملوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس موقع پر امریکی نیشنل انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر ڈان کوٹز نے خبردار کیا کہ ایران، چین، روس اور شمالی کوریا، امریکا اور دوسرے ملکوں میں جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔