.

بحیرہ احمر اب محفوظ نہیں رہا: ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی صدر ٹرمپ کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرات سے دوچار کرنے کے لیے دھمکی آمیز بیانات دینے کا سلسلہ جاری ہے۔اب کہ سپاہِ پاسدارا ن انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ایک مرتبہ پھر بولے ہیں اور انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست دھمکی دے دی ہے۔

انھوں نے ایران کے العلم ٹی وی چینل سے جمعرات کو براہ راست نشر کی گئی ایک تقریر میں کہا کہ ’’ بحیرہ احمر اب محفوظ نہیں رہا ہے۔آپ کو جان لینا چاہیے کہ یہ جنگ جو کچھ آپ کے پاس ہے ،اس کو تباہ کردے گی۔آپ اس جنگ کا آغا ز کریں گے لیکن یہ ہم ہیں جو اس جنگ کا اختتام کریں گے۔اس لیے آپ کو ایرانی عوام اور ہماری جمہوریہ کے صدر کی توہین کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’آپ خطے میں ہماری طاقت اور غیر روایتی جنگ میں صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں ۔ہم اقدام کریں گے اور ہم کام کریں گے‘‘۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے اس بیان میں پنہا ں حوالہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے دو آئیل ٹینکروں پر حملے کا ہے۔گذشتہ روز اس حملے کے بعد سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں باب المندب کی آبی گذرگاہ کے ذریعے تیل بردار جہاز بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے۔

اس نئی پیش رفت کے حوالے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایران ہی ہے جس نے یمن کے حوثی باغیوں کو باب المندب سے گذرنے والے تیل اور مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کے لیے اُکسایا ہے۔باب المندب کو تیل بردار جہازوں کے گذرنے کا اہم اور مصروف آبی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی نے ایرانی صدر حسن روحانی کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے دھمکی آمیز بیانات کو ایک مرتبہ پھر سراہا ہے اور کہا ہے کہ ’’ہمارے پاس اور بھی بہت سی آبنائے ہیں اور ہرمز ان میں سے ایک ہے‘‘۔انھوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’ آپ کو جان لینا چاہیے کہ یہ جنگ آپ کے پاس جو کچھ ہے،اس کو تبا ہ کردے گی‘‘۔

انھوں نے یہ دھمکی آمیز تقریر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کے ردعمل میں کی ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے ۔ صدر ٹرمپ نے انگریزی کے بڑے حروف میں لکھی اس ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ امریکا کو دوبارہ کبھی ڈرائیں دھمکائیں نہیں یا پھر آپ کو ایسے سنگین مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی پوری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور ایسا پہلے چند ایک بار ہی ہوا ہوگا‘‘۔