.

علامہ سفر الحوالی نے ایران اور القاعدہ سے تعاون کو کیوں جائز قرار دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک متنازع عالم دین علامہ سفر الحوالی نے اپنے کتاب ’مسلمان اور مغربی تہذیب‘ میں لکھا ہے کہ ایران کی جانب سے القاعدہ کو باقاعدہ مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ دونوں کے مذہبی افکار میں واضح فرق کے باوجود سیاسی نظریات اور اہداف میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

علامہ سفر الحوالی ان دنوں سعودی عرب میں گرفتار ہیں اور صحوی گروپ کی طرف سے انہیں ’عصر حاضر کا ابن تیمیہ‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ تاہم وہ ایران، اخوان المسلمون اور القاعدہ کے باب میں نرمی برتنے اور ان کی حمایت کی وجہ سے کافی متنازع رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علامہ سفر الحوالی نے اپنی کتاب کے صفحہ ’427‘ میں لکھا کہ بہت سے طلبا یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا ایران میں غلو کرنے والی جماعتوں کو طوفان برپا کرنے کے لیے کیوں کھلا چھوڑا گیا؟ تو اس کا جواب یہ حقیقت ہے کہ ایران اور وہاں پر موجود عسکریت پسند گروپ ’عملی سیاست‘ کی پالیسی پر چلتے ہوئے باہمی مفادات کے لیے ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے غلو کرنے والی جماعتوں کو ایران کی طرف سے مدد فراہم کی جاتی اور انہیں پناہ دی جاتی رہی ہے۔

ایران کے ساتھ تعاون کے جواز کے بارے میں علامہ الحوالی نے لکھاکہ القاعدہ اور ایران کا موقف یہ رہا کہ ان کا اصل دشمن صلیبیوں کے ماتحت نظام ہے اور اس کے خلاف جنگ زیادہ افضل ہے۔ میرے لیے ایران اور القاعدہ کے درمیان اتفاق حیران کن نہیں۔ یہ اتفاق ’طاغوت‘ کے حامیوں کی طرف نہیں لوٹتا کیونکہ اس کی قدیم وجہ مغربی صلیبی نظام کی مخالفت ہے۔ ایران اور القاعدہ دونوں کا اس حوالے سے موقف قریب قریب ایک ہی جیسا ہے۔

ایرانی خمینی نظام کے بارے میں حوالی کا موقف

علامہ سفر الحوالی نے اپنی کتاب میں القاعدہ ، سنی بنیاد پر جماعتوں کے ساتھ تعاون پر زور دینے کے ساتھ ایران کے ساتھ تعاون کو بھی جواز مہیا کرتے ہیں۔ ایک طرف الحوالی آیت اللہ علی خمینی کے فقہی فلسفے کو جواز فراہم کرتے ہیں اوران کی زبان میں بات کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام کے مذہبی سیاسی بیانیے کا پرچارک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’ہم اہل سنت کے منہج کے تابع ہیں۔ اس منہج میں ایک بدعتی مسلمان بھی کافر سے بہتر ہے۔ جہمیہ اور بعض روافضہ کا بھی یہی فلسفہ ہے کہ وہ کفار کے ممالک میں گئے جہاں کافی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا مگر وہ شرک اور بدعت کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ ان کا بدعات پر چلنا شرک سے باز رہنے سے بہتر تھا۔

وہ اپنی بات کوآگے بڑھاتے ہوئے صفحہ 425 پر رقم طراز ہیں کہ امریکا کی جانب سے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے [مجاھدین] کو افغانستان، عراق اور یمن میں جانا نشانہ بنانا تہران میں سعودی سفارت خانےاور مشہد میں قونصل خانے کو نذرآتش کرنے سے بڑی برائی ہے۔ امریکا کے خلاف لڑنے والے سعودی جانے پہچانے لوگ ہیں اور ان کا قتل تہران میں سعودی سفارت کو آگ لگانے سے بڑا جرم ہے۔ ایک مسلمان کی جان دوسرے مسلمان پرخانہ کعبہ کی طرح حرام ہے۔

جن مسلمانوں کو امریکیوں نے بمباری میں جلا ڈالا وہ دوسروں کے ہاتھوں مرنے والوں کی نسبت بہت کم ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے انسداد دہشت گردی کی آڑ میں بمباری کرکے کئی ملکوں میں مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا۔