.

ایران پر افغان طالبان کو اسلحہ مہیا کرنے کےا لزام کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پر افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزام کا اعادہ کیا گیا ہے۔طالبان نے کابل میں حکومت اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز کے خلاف گذشتہ سترہ سال سے جنگ برپا کر رکھی ہے اور وہ ان کے خلاف مختلف ممالک کا ساختہ اسلحہ استعمال کررہے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق ایران پر یہ نیا الزام پارلیمان کے ایک رکن کرم الدین رضا زادہ نے عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ طالبان وسطی صوبے غور میں افغان فورسز کے خلاف جنگ میں ایرانی ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔

کرم الدین پارلیمان میں غور ہی کی نمائندگی کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ان کے صوبے میں ایک پاپولر پیپلز فورس نے ایک گرفتار طالبان سے ایرانی ساختہ ہتھیار برآمد کیے ہیں۔طالبان نے گذشتہ دو ہفتے سے اس صوبے کے دارالحکومت فیروز کوہ کے مغرب میں واقع علاقے میں سرکاری فوج کے خلاف حملے تیز کررکھے ہیں۔

ایران پر ماضی میں الزامات

افغانستان کے محکمہ پولیس نے مئی کے وسط میں ایک نیوز کانفرنس میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ایرانی رجیم صوبہ فراہ میں طالبان تحریک کو ہتھیار مہیا کررہا ہے۔اس صوبے کی مغربی سرحد ایران سے ملتی ہے۔

تب افغان حکومت نے صوبہ فراہ میں جنگ کے خاتمے اور طالبان کو شکست سے دوچار کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

فراہ میں محکمہ پولیس کے سربراہ الفضل احمد شیرزاد نے کہا تھا کہ ’’ ایران طالبان کو صوبے میں افراتفری پھیلانے کے لیے ہتھیار مہیا کررہا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان شکست سے دوچار ہونے کے بعد جس علاقے سے بھاگے ہیں ،وہاں سے ایرانی ساختہ برآمد ہوئے ہیں۔

افغان حکام نے ماضی میں صوبہ پکتیا میں بھی ایرانی ساختہ ہتھیار ملنے کی اطلاع دی تھی۔ اپریل میں کابل میں متعیّن امریکی سفیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ا یرانی حکومت سپاہِ پاسداران انقلاب کے ذریعے طالبان کو لاجسٹکس اسپورٹ مہیا کررہی ہے۔

طالبان اور ایرانی رجیم کے درمیان واضح مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود صوبہ فراہ کے مقامی حکام نے دسمبر 2016ء میں کہا تھا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے اہلکار اس صوبے میں طالبان کی مسلح مزاحمت میں شریک ہیں اور وہ ان کی معاونت کررہے ہیں۔

گذشتہ سال 21 مئی کو افغان طالبان کے سابق امیر ملّا اختر منصور پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ وہ اس وقت مبیّنہ طور پر ایران سے واپس آرہے تھے۔اس واقعے کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ سکیورٹی حکام کو حملے کی جگہ سے ولی محمد نامی ایک پاکستانی کا کارآمد ایرانی ویزے کے ساتھ ایک پاسپورٹ ملا تھا۔