.

’’ایران کی آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی کو سنجیدہ سمجھا جائے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے سیاسی امور کے ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر یداللہ جوانی نے دنیا اور بالخصوص امریکا کو ایک مرتبہ پھر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی ’’ سنجیدہ‘‘ ہے۔

سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ خبررساں ایجنسی تسنیم سے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’’ جب کوئی ملک ایران کو ڈراتا دھمکاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ایرانی تیل کی برآمدات کو روک سکتا ہے تو پھر اس کے ردعمل میں ایران کی دھمکی کو بھی مصدقہ سمجھا جائے ‘‘۔

لیفٹیننٹ کمانڈ ر جوانی نے خلیج میں تعینات امریکی فوجیوں پر بھی حملے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ’’ اگر کوئی اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتا ہے تو اس کے جواب میں ایران بھی ان کے مفادات کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق نشانہ بنائے گا‘‘۔انھوں نے امریکا کی دھمکی آمیز پالیسیوں کے جواب میں ایران کی مسلح افواج کے فطری ردعمل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان سے قبل گذشتہ بدھ کو سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری کہا تھا کہ امریکا کی ایران کی تیل کی بین الاقوامی تجارت کا گلا گھونٹنے کی دھمکیوں کا بآسانی جواب دیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر پاسدارانِ انقلاب کی موجودہ صلاحیتوں کی امریکا کے مہم جُو صدر کو بھنک پڑ جائے تو وہ کبھی اس طرح کی غلطی کا ارتکاب نہیں کریں گے اور وہ یہ بات بخوبی سمجھ جائیں گے کہ تیل کی تجارت کو روکنے کی دھمکیوں کا بآسانی جواب دیا جاسکتا ہے‘‘۔

جمعرات کو سپاہِ پاسدارا ن انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست دھمکی تھی اور ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ’’ بحیرہ احمر اب محفوظ نہیں رہا ہے۔آپ کو جان لینا چاہیے کہ یہ جنگ جو کچھ آپ کے پاس ہے ،اس کو تباہ کردے گی۔آپ اس جنگ کا آغا ز کریں گے لیکن یہ ہم ہیں جو اس جنگ کا اختتام کریں گے۔اس لیے آپ کو ایرانی عوام اور ہماری جمہوریہ کے صدر کی توہین کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے‘‘۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے اس بیان میں پنہا ں حوالہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے دو آئیل ٹینکروں پر حملے کا ہے۔بدھ کو اس حملے کے بعد سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں باب المندب کی آبی گذرگاہ کے ذریعے تیل بردار جہاز بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے۔

انھوں نے یہ دھمکی آمیز تقریر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کے ردعمل میں کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے انگریزی کے بڑے حروف میں لکھی اس ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ امریکا کو دوبارہ کبھی ڈرائیں دھمکائیں نہیں یا پھر آپ کو ایسے سنگین مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی پوری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور ایسا پہلے چند ایک بار ہی ہوا ہوگا‘‘۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اسی ماہ سوئٹزر لینڈ کے دورے کے موقع پر ایران کے ہمسایہ ممالک کے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔ایرانی عہدے داروں کی آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھکیو ں کی بعض سنجیدہ فکر شخصیات نے مخالفت بھی کی ہے۔ایران کی جوہری مذاکرات کار ٹیم کے سابق ترجمان سید حسین موسویان نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں پر انتباہ جاری کیا تھا اور کہاتھا کہ اگر ایران اس کو عملی جامہ پہناتا ہے تو اس کو امریکا کے علاوہ اپنے اتحادی ممالک چین ، روس اور یورپی یونین کی جانب سے بھی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان سے قبل ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے کہا تھا کہ ایرا ن آبنائے ہُرمز کو بند نہیں کرسکتا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی میں بڑی تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔ مشرقِ اوسط کے ممالک سے خام تیل کے جہاز اسی آبی گذرگاہ سے ہوکر ایشیا ، بحرالکاہل ، یورپ ، شمالی امریکا اور اس سے ماورا ممالک میں جاتے ہیں۔