.

طالبان کا واشنگٹن سے براہِ راست رابطہ ، امریکی عہدہ دار سے’’مفید ملاقات‘‘ کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان نے امریکا کی ایک اعلیٰ عہدہ دار سے پہلے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی ہے۔افغانستان میں گذشتہ سترہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مستقبل میں امن مذاکرات کی جانب یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

طالبان کے ایک عہدہ دار نے جنوبی ایشیا میں امریکا کی اعلیٰ سفارت کار ایلس ویلز سے اسی ہفتے ملاقات کو ’’مفید‘‘ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ ملاقات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی تھی جہاں طالبان نے 2013ء سے ایک سیاسی رابطہ دفتر کھول رکھا ہے۔

اس طالبان عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملاقات کا ماحول مثبت تھا اور بات چیت بہت مفید رہی ہے‘‘۔

امریکی حکام نے اس ملاقات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ اس سے انکار کیا ہے۔تاہم مس ایلس ویلز اسی ہفتے دوحہ میں موجود تھیں ۔ان کی امریکا واپسی پر محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مس ویلز نے دوحہ میں حکمراں خاندان سے ملاقات کی تھی اور امریکا افغان حکومت سے مشاورت کے ذریعے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لے رہا ہے‘‘۔

بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ افغانستان میں مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے بارے میں کوئی بھی بات چیت طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہوگی۔

واضح رہے کہ طالبان امریکا سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا سے سیاست پر بات نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ بالمشافہ ملاقات میں امریکا کی بالخصوص سکیورٹی سے متعلق تشویش اور افغانستان کے مستقبل میں طالبان کے کردار کے بارے میں مذاکرات چاہتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود پندرہ ہزار امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلا کا نظام الاوقات چاہتے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکیوں اور طالبان کے درمیان آیندہ ملاقات کب ہوگی لیکن طالبان عہدہ دار کا کہنا تھا کہ مستقبل میں یہ ملاقات ضرور ہوگی۔طالبان کی حکومت میں ایک سابق وزیر اور ان کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ آغا جان محتشم نے بھی اسی ہفتے دوحہ میں امریکی حکام سے طالبان کی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ طالبان امریکیوں کے ساتھ اپنے مسائل کا حل اور قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں‘‘۔

طالبان کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ افغان حکومت واشنگٹن سے آزادانہ طور پر رہ کر کام نہیں کرسکتی اور جب تک وہ امریکا کی تشویش کو دور نہیں کردیتے ،اس وقت تک ان کا کابل حکومت کے ساتھ طے پانے والا کوئی بھی سمجھوتا بے مقصد ہوگا۔