.

سعودی ویمن سائیکل ٹیم کا سائیکل پر یورپی ملکوں کا سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ویمن سائیکل ٹیم ان دنوں یورپی ملکوں کے سفرپر ہے۔ ’ Global Biking Initiative‘ نامی تنظیم کی طرف سے شروع کردہ سیاحتی پروگرام کے تحت سعودی عرب کی خواتین کی سائیکلنگ ٹیم پہلی بار یورپی ملکوں کے دورے پر ہے۔ انہوں نےسائیکل مقابلے کا آغاز برطانیہ سے کیا۔ اگلے مراحل میں وہ فرانس، بیلجیم اورہالینڈ سے گذر کر اپنے آخری اسٹیشن جرمنی پہنچیں گی۔

مقابلے میں شامل ایک خاتون البلوشی نے بتایا کہ یورپی ملکوں کی سائیکل پر سیر کا ان کا پہلا تجربہ ہے مگراس نے دسیوں سعودی دوشیزاؤں کو متحرک کیا۔ اس نے Global Biking Initiative سے تعارف کے بعد انفرادی طورپر اس کی ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پہلے کامیاب تجربے کے بعد جب میں واپس سعودی عرب آئی تو میں نے اپنی دوستوں اور بہنوں کو بھی اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔

سائیکلسٹ فاطمہ کا کہنا ہے کہ سائیکل چلانے کا اس کا شوق اس کے سائیکلنگ کے عالمی مقابلے میں شرکت کی راہ ہموار کرے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ میرا خاندان سعودی عرب شہر ظہران میں رہائش پذیر ہے اور میں بچپن سے سائیکلسٹ بننے کا خواب دیکھ رہی تھیْ

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے فاطمہ نے کہاکہ میں نے کم عمری ہی میں اپنے شوق کو جلا بخشنے کےلیے سائیکل چلانا شروع کردی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں نے یورپ کے ایک ایسے علاقے کا ایک ایسے وقت میں سفر کیا کہ کئی دن تک کسی گاڑی کے انجن کی آواز کان میں نہیں پڑی اور نہ ہی اسے کسی اشارے پر رکنا پڑا۔ میں نے اپنا سفر سنہ 2017ء میں شروع کیا۔ اس دوران میں نے کئی سماجوں، اقوام اور ثقافتوں کا مشاہدہ کیا۔ اپنے سفرکے دوران میں نے سائیکل پر 125 کلو میٹر سفر کیا۔ میرے سائیکل پر اس طویل سفر کی ایک وجہ لوگوں کو سائیکل کی اہمیت کی طرف راغب کرنا بھی ہے۔

سعودی عرب کی سائیکلسٹ ٹیم کا قیام

یورپ میں اپنے ایک سو پچیس کلو میٹر سائیکلنگ کے سفر کے بعد وطن واپسی نے فاطمہ نے ’HierRide‘ کے نام سے ایک ٹیم بنائی۔ اس کی اس کی بہن یاسا البلوشی، دینا الناصر، عنود الجرید اور دیگر شامل کی گئیں۔ یہ سعودی عرب کی پہلی سائیکلسٹ ٹیم ہے جو سال 2018ء میں سائیکل پر یورپ کے سفر پر ہے۔ وہ جرمنی پہنچنے سے قبل سویڈن اور ڈنمارک سے گذریں گی۔ درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باوجود وہ اپنے سفر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔

فاطمہ کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ اب اس کا صرف ایک مشغلہ ہی نہیں رہ گیا بلکہ ایک مشن کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ وہ سعودی عرب کی نوجوان لڑکیوں کو اس طرح سائیکلنگ کی اہمیت کی طرف راغب کرنا چاہتی ہیں تاکہ ملک میں سائیکل چلانے کا کلچر پروان چڑھے۔

سعودی عرب کے اندر اور باہر دوسرے ممالک میں سعودی سائیکل ٹیم کا کا غیرمعمولی خیرمقدم کیا گیا جس سے ان کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔