.

صرف 35% ایرانی حجاب پر یقین رکھتے ہیں: پارلیمانی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف 35% ایرانی خواتین کے حجاب پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایرانی پارلیمنٹ کے زیر انتظام تحقیقی مرکز کی جانب سے تیار کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق لوگ اب ملک میں پھیلے اس مظہر کی پروا نہیں کر رہے ہیں جس کو شدت پسند عناصر کی جانب سے "جزوی حجاب" قرار دیا جاتا ہے۔ اس حجاب میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں ٹراؤزر اور طویل کوٹ کے ساتھ صرف سر کے بالوں کا کچھ حصّہ ڈھانپ لیتی ہیں اور برقعہ نہیں پہنتی ہیں۔

یہ رپورٹ 43 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں باور کرایا گیا ہے کہ حجاب کے معاملے میں حکومتی مداخلت کو عوام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے اور مذہبی، سرکاری اور سکیورٹی حکام ایرانی معاشرے میں "جزوی حجاب" کے پھیلتے ہوئے رجحان سے نمٹنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جزوی حجاب پہننے والی خواتین کے شانہ بشانہ مکمل حجاب کرنے والی خواتین کے درمیان بھی حکومتی مداخلت کے حوالے سے مخالفت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے تحقیقی مرکز کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشرے میں اخلاقیات کی نگراں خصوصی پولیس اور مذہبی اتھارٹیز کے کام جاری رکھنے پر شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں 70% خواتین لازمی حجاب پر یقین نہیں رکھتی ہیں اور جزوی حجاب کے حوالے سے عمومی نظر معاشرے میں پھیل چکی ہے۔ رپورٹ میں اس جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ 85% سے زیادہ خواتین جزوی حجاب اختیار کرتی ہیں اور وہ جبری حجاب اور حجاب کے معاملے میں حکومتی مداخلت کے حوالے سے منفی موقف رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ جبری یا لازمی حجاب کی مخالفت میں مہم کا آغاز 27 دسمبر 2017ء کو یعنی ایران میں حکمراں نظام کے خلاف بھڑکنے والے عوامی احتجاج سے ایک روز پہلے ہوا تھا۔ ویدا موحد نامی ایک 31 سالہ لڑکی نے دارالحکومت تہران کے وسط میں سڑک پر کھڑے ہو کر اپنا حجاب اتارا اور اپنے اسکارف کو ایک چھڑی پر معلّق کر کے لوگوں کے سامنے فضا میں بلند کیا۔ مذکورہ لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا تاہم وہ ایرانی خواتین کے مطالبے کی علامت بن گئی۔

بعد ازاں بہت سی ایرانی خواتین اور لڑکیوں نے تہران میں شارعِ "انقلاب" کی اس لڑکی کی پیروی کی اور ملک میں لازمی حجاب کے مسلط کیے جانے پر احتجاج کا راستہ اپنایا۔ یہ تحریک اب بھی مختلف صورتوں میں جاری و ساری ہے اور اس کی آواز عالمی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس وجہ سے ایرانی حکام نے درجنوں خواتین کو گرفتار کر کے جیل میں بند کیا۔