.

قطر نے عالمی کپ کی میزبانی یقینی بنانے کے لیے کس پی آر فرم کی خدمات حاصل کیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے فیفا عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے اپنے حریف ممالک امریکا اور آسٹریلیا کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے تعلقات عامہ کی جس بین الاقوامی کمپنی کی خدمات حاصل کی تھی،اس سے استفادہ کرنے والوں میں شامی صدر بشارالاسد اور لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی بھی شامل ہیں ۔

ان دونوں لیڈروں نے تعلقاتِ عامہ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی براؤن لائیڈ جیمز ورلڈ وائیڈ کی خدمات بیرونی دنیا میں اپنا تشخص بہتر بنانے کے لیے حاصل کی تھیں جبکہ یہ دونوں لیڈر اپنے ہی شہریوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے مشہور رہے ہیں بلکہ بشار الاسد تو اس وقت بھی شامی شہروں اور قصبوں میں روس کی مدد سے خون کی ندیاں بہا رہے ہیں ۔

بشارالاسد نے 2010ء میں اس کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں اور اس کے ساتھ پانچ ہزار ڈالرز ماہانہ کے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اسی کمپنی نے شام کی خاتون اوّل اسماء الاسد اور ’’ووگ‘‘میگزین کے درمیان رابطہ استوار کروایا تھا۔اس میگزین میں ’’صحرا میں گلاب‘‘ کے عنوان سے شامی صدر کی اہلیہ کا ایک زبردست خاکا شائع ہوا تھا۔

اس معروف عالمی جریدے نے اسماء الاسد کی مدح سرائی میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے تھے اور ان کے بارے میں لکھا تھا:’’ وہ دنیا کی خواتینِ اوّل میں سب سے نوجوان اور فیشن کی دلدادہ ہیں۔وہ جاذب نظر اور خوش نما شخصیت کی مالکہ ہیں۔دبلی پتلی ،خوب صورت اور تربیت یافتہ تجزیاتی ذہن کی حامل ہیں ،وہ دیدہ زیب لباس زیب تن کرتی ہیں‘‘۔ اور تو اور اس میگزین نے یہ دعویٰ کرنے میں بھی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا کہ شام مشرقِ اوسط میں ایک محفوظ ترین ملک ہے۔

ووگ نے شامی صدر کے اپنے ہی عوام کے خلاف سفاکانہ مظالم کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد اس مضمون کو ہٹا دیا تھا۔ تاہم یہ اس کی آن لائن سائٹ پر بدستور دستیاب ہے۔

لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں مقتول معمر قذافی نے بھی 2008ء میں ا پنا بین الاقوامی تشخص بہتر بنانے کے لیے براؤن لائیڈ جیمز ورلڈ وائیڈ کی خدمات حاصل کی تھیں۔رپورٹس کے مطابق اس فرم نے معمر قذافی کی تقریریں لکھی تھیں اور انھوں نے یہ تقریریں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع کی تھیں۔اس نے لیبیا کے لیڈر کے حق میں مضامین کی اشاعت کے لیے اخبارات کے مدیروں سے بھی روابط استوار کیے تھے۔

تاہم اس فرم نے بعد میں معمر قذافی کے لیے تقریریں یا بیانات لکھنے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ طالبان کے حق میں اور امریکا کے خلاف بھی سخت بیانات جاری کرتے رہے تھے۔اس فرم کا کہنا تھا کہ اس نے اقوام متحدہ میں لیبیا کے مشن سے’’لاجسٹیکل اسپورٹ‘‘ کی مد میں بارہ لاکھ ڈالرز وصول کیے تھے۔اس کو یہ رقم 2009 ء میں نیویارک میں کرنل قذافی کے دورے کے موقع پر قیام وطعام اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کا انتظام کرنے کی مد میں اد ا کی گئی تھی۔