.

کرنسی کی شدید گراوٹ سے ایرانی صوبے اور تہران کا بازار مفلوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران کے مرکزی بازار میں پیر کی صبح سے بھرپور ہڑتال دیکھی جا رہی ہے۔ ہڑتال کی کال دکانوں کے مالکان اور اقتصادی سرگرمیاں انجام دینے والے افراد نے مہنگائی، اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافے اور معیشت کی بگڑتی صورت حال کے خلاف احتجاجاً دی تھی۔

ایران کے مختلف صوبوں اور شہروں میں مرکزی بازار اس ہڑتال میں شامل ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے وڈیو کلپس اور تصاویر میں پولیس اور داخلہ سکیورٹی فورس کے اہل کار بڑی تعداد میں تہران کے بازار کی سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں تا کہ مظاہروں کے پھوٹ پڑنے کو روکا جا سکے۔

تہران کے تمام بڑے بازاروں کی دکانوں کے علاوہ شہریار شہر کا مرکزی بازار بھی پیر کی صبح بند رہا۔ تبریز کا صرافہ بازار بھی ہڑتال میں شامل ہے جب کہ ایران کے جنوبی شہر بندر عباس اور شمالی شہر رشت کے بازار میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں ہے۔

دوسری جانب ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ اور صرافہ بازار میں حالیہ صورت حال کا بڑی حد تک تعلق دشمنوں کی سازش سے ہے جس کا مقصد ایرانی معیشت کو نشانہ بنانا ہے"۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جون کے اواخر میں بھی تہران کی دکانوں کے مالکان نے ڈالر کی قیمت میں انتہائی اضافے کے خلاف احتجاجا مظاہرے اور ہڑتالیں کیں۔ یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہا۔

احتجاج کرنے والے افراد نے لبنان، شام، عراق اور فلسطین میں ایرانی نظام کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے خلاف نعرے بازی کی اور ایرانی عوام کے کھاتے میں مزکورہ ملیشیاؤں پر اربوں کی رقم خرچ کرنے کی سخت مذمت کی۔

ادھر دارالحکومت تہران کے وسط میں "آمر مردہ باد"، "شام سے باہر نکلو ہماری فکر کرو" اور "ولایت فقیہ کا نظام مردہ باد" کے نعرے بلند ہوئے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے اقتصادی اور معاشی صورت حال کی ابتری کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کے گولے داغے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر یہ دعوت دی گئی ہے کہ تہران کے بازار کے ساتھ یک جہتی کے طور پر تمام صوبے اس عام ہڑتال میں شامل ہو جائیں۔

حالیہ ہڑتال ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ ریکارڈ ہونے کے بعد دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پیر کی صبح تک ایک امریکی ڈالر کی قیمت 115400 ایرانی ریال پہنچ گئی تھی جب کہ ایرانی حکومت نے ایک ماہ سے کرنسی کی قدر ایک ڈالر کے عوض بیالیس ہزار ایرانی ریال مقرر کی ہوئی ہے۔