.

کیا امریکی نیوی میں شادی ناممکن ہوتی جا رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیول حکام کا کہنا ہے کہ ملازمت کے مُشکل اور سخت تقاضوں کے پیش نظر نیوی سے وابستہ افراد کے لیے شادی بیاہ جیسے سماجی امور کو ساتھ چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ وقت زیادہ دورنہیں رہا جب نیوی میں ملازمت کرنے کے لیے کسی بھی اہلکارکے لیےشادی ناممکن ہوجائے گی۔

فوج کے بارے میں معلومات شائع کرنے والی ویب سائیٹ "Military Times" نے ایک سروے رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نیوی میں کام کرنے والے مردوں کی ایک بڑی تعداد یہ یقین کررہی ہے کہ فوجی سروس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے شادی ان کے لیے محال ہوچکی ہے۔

سیناٹرا کا نغمہ اور ماضی کا رومانس

فوجیوں کی سروسز سے وطن واپسی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں لاکھوں امریکی اپنی رومانوی اور خاندانی زندگی پر بات کرتے ہیں مگر نیوی میں دوسرے ملکوں میں خدمات انجام دینےوالوں کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے۔

حیران کن امریہ ہے کہ نیوی میں کام کرنے والوں کے معاشقے اور ان کی محبتیں ادھوری رہتی ہیں، مگرانہیں معروف موسیقار فران سیںٹارا کے گیت ’محبت اور زندگی ٹانگے اور گھوڑے کی مانند ہیں جو ایک ساتھ حرکت کرتے ہیں‘۔ رائے عامہ کے جائزے کے مطابق ذاتی فیصلوں اور پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے درمیان نیوی کے لوگوں کو فیصلہ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اس سروے میں کم سے کم 13000 امریکی نیول اہلکاروں کی رائے لی گئی۔

ملازمت کے تقاضے

سروے میں شامل اہلکاروں میں سے بیشتر نے ایک طرف شادی بیاہ اور خاندان بسانے کے لیے پرکشش تجاویز پیش کی جاتی ہیں مگر دوسری طرف ان کے سروس کے تقاضے اتنے مشکل اور منفرد ہیں کہ فوج کے کلچر کے پیش نظر خاندان بنانے یا بسانے کی بات مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کام کا طویل دورانیہ، دور دراز کے مقامات پر بار بر تعیناتی، سروس میں بروقت نہ پہنچنے پر خطرات اور مشکل سروس وہ مسائل ہیں جو شادی کے تصور کو کم سے کم کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیوی کا کوئی حاضر سروس اہلکار بہت کم اپنی شادی کے بارے میں سوچ پاتا ہے۔

رائے عامہ کا مقصد

اس طرح کے سروے ہر سال یا دو سال بعد کرائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد امریکی نیوی کے اہلکاروں کو درپیش مشکلات اوران کے حل میں ان کی مدد کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اہلکاروں کو ان کے خاندانوں کے بارے میں سوچنے اور سماجی اور نجی زندگی کے بارے میں انہیں ترغیبات دینا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ستھ یہ کہ ان کی پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی میں کئی رکاوٹ بھی نہ پیدا ہو۔

کنوارہ پن اور سمندروں میں زندگی

سروے میں شامل 45 فی صد غیر شادی شدہ مردوں اور52 فی صد خواتین نے کہا کہ نیوی میں جس طرح انہیں زندگی گذارنا پڑتی ہے تو وہ اپنی سروس جاری رکھتے ہوئے شادی کے بارے میں بہت کم غور کر پاتے ہیں۔

شادی شدہ اور بچوں والے افراد کی نسبت 41 فی صد نیول مرد اہلکاروں اور 49 فی صد خواتین نے کہا کہ سمندروں میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گذارنے والوں کے لیے شادی بیاہ جیسے سماجی امور کے بارے میں سوچنے کے مواقع کم ہی ہوتے ہیں۔ ایسے افراد اجرت پر کسی کی کوکھ سے بچہ پیدا کراتے یا کسی سے بچہ گود ہی لے سکتے ہیں۔

سروے میں شامل 55 فی صد نیول خواتین اور 26 فی صد مردو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دوران ملازمت شادی یا بچے کی پیدائش اور حمل وغیرہ ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ان کی پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔