.

افغانستان : جلال آباد میں سرکاری عمارت پر حملہ ،15 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں ایک سرکاری عمارت پر مسلح افراد کے حملے اور خودکش بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے منگل کو ایک سرکاری عمارت پر دھاوا بول کر وہاں موجود دسیوں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ایک بمبار نے پہلےاس عمارت کے بیرونی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے بعد دوسرے حملہ آور اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ طالبان مزاحمت کاروں نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک وٹس پیغام میں اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ البتہ داعش نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں جلال آباد میں متعدد تباہ کن حملے کیے ہیں اور انھوں نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مصالحت کے لیے بات چیت کی خبریں منظرعام پر آنے کے بعد سے اپنے حملے تیز کررکھے ہیں۔

عبیداللہ نامی ایک راہ گیر نے بتایا ہے کہ پہلے سیاہ رنگ کی ایک کار محکمہ برائے مہاجرین امور کے زیر استعمال ایک عمارت کے داخلی دروازے پر آ کر رُکی تھی۔اس میں سوار تین مسلح افراد میں سے ایک نے باہر نکل کر فائرنگ شروع کردی۔

پھر ایک حملہ آور نے عمارت کے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور دو مسلح آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے چند منٹ کے بعد وہ کار بھی دھماکے سے اڑا دی گئی جس سے نزدیک سے گزرنے والےافراد زخمی ہوگئے۔اس عینی شاہد نے بتایا ہے کہ آٹھ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خودکش بم دھماکے میں مرنے والے بعض افراد کی لاشیں ناقابل شناخت ہوگئی تھیں۔

افغان سکیورٹی فورسز نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی اس عمارت اور علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے ۔ وہاں سے فائرنگ اور دستی بموں کے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور سیاہ دھواں آسمان کی جانب بلند ہورہا تھا۔

صوبہ ننگرہار کی مقامی کونسل کے ایک رکن سہراب قادری نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد کم سے کم چالیس افراد عمارت کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ان میں سے ایک یرغمالی نے سکیورٹی سروسز کو فون کر کے بتایا تھا کہ حملہ آور وں نے وہاں موجود لوگوں کو نقل وحرکت نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے کہا ہے کہ حکام کی مہاجرین سے متعلق امور پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں ( این جی او ) کے ذمے داروں سے ملاقات کے دوران میں یہ حملہ کیا گیا تھا۔اس کے بعد اس محکمے کے سربراہ اور متعدد دوسرے افراد کو بہ حفاظت نکال لیا گیا ہے۔

افغانستان میں منگل کے روز دوسرے صوبوں میں بھی تشدد کے مختلف بڑے واقعات پیش آئے ہیں ۔مغربی صوبے فراہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے سے ایک مسافر بس میں سوار گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ادھر دارالحکومت کابل اور مشرقی شہر گردیز کے درمیان واقع شاہراہ پر مسلح افراد نے مختلف گاڑیوں کو روک کر بائیس مسافروں کو اغوا کر لیا ہے۔