.

خطّے میں تیل کی ترسیل میں رخنہ اندازی کی کوشش نہیں کر رہے : روحانی کا یُوٹرن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی آبنائے ہرمز کو تیل کی برآمدات کے لیے بند کر دینے سے متعلق اپنی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران خطّے میں کشیدگی پیدا کرنے یا تیل کی ترسیل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

ایرانی صدر نے یہ بات منگل کے روز تہران میں برطانیہ کے نئے سفیر روبرٹ میکیر کے استقبال اور ان سے سفارتی دستاویزات وصول کرنے کے موقع پر کہی۔ روحانی نے باور کرایا کہ جوہری معاہدے سے امریکا کے علاحدہ ہونے کے حوالے سے ایران یورپی ممالک کے فیصلہ کن موقف پر بھروسہ کر رہا ہے۔

ایرانی صدر نے زور دے کر کہا کہ اُن کا ملک بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتا مگر وہ تیل کی برآمدات کے حوالے سے اپنے حق سے ہر گز دست بردار نہیں ہو گا۔

روحانی کے موقف میں یہ تبدیلی خلیج میں جہاز رانی کے لیے خطرے کے حوالے سے ایرانی دھمکیوں میں بڑھاوے کے بعد سامنے آئی ہے۔ بالخصوص ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے بیان کے بعد جس نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ "بحر احمر اب محفوظ نہیں رہا"۔ سلیمانی کا اشارہ تہران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بدھ کے روز سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں پر کیے جانے والے حملے کی طرف تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے آبنائے ہرمز کو بند کر دینے اور امریکا کا مقابلہ مختلف طریقوں سے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روحانی کو امریکا کو دی جانے والی دھمکیوں کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔ واضح رہے کہ ایرانی سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی تہران کی آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان شخصیات میں سفارت کار حسین موسویان شامل ہیں۔ وہ جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سابق ترجمان رہ چکے ہیں اور صدر حسن روحانی کی حکومت کے مقرّب شمار کیے جاتے ہیں۔ موسویان کے مطابق تہران کی جانب سے تیل کے ٹینکروں کے سامنے آبنائے ہرمز کو بند کر دینے سے ایران اپنے حلیفوں کی جانب سے بھی پابندیوں کے نیچے دب جائے گا۔