.

پومپیو نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی شرائط پیش کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی رہ نماؤں کے ساتھ غیر مشروط ملاقات پر تیار ہونے سے متعلق بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے شرائط کا اعلان کر دیا۔

امریکی ٹی وی چینلCNBC کو پیر کی شام دیے گئے انٹرویو میں پومپیو نے ایرانی ذمّے داران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ "جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ جناب صدر اختلافات کے حل کے مقصد سے ان ملاقاتوں کے لیے کوشاں ہیں"۔

پومپیو کے مطابق اگر ایرانیوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اپنے عوام کے ساتھ برتاؤ میں بنیادی تبدیلی، خراب تصرفات میں کمی اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والے کسی حقیقی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں تو پھر اس کے بعد اُن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہوا جا سکتا ہے"۔

اس سے قبل مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت غیر مشروط بات چیت کے لیے آمادہ ہو تو اس کے ساتھ ملاقات کی جا سکتی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وہائٹ ہاؤس میں اطالوی وزیراعظم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد تہران سے تعلقات بہتر بنانے پر غور کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ایرانی قیادت لچک کا مظاہرہ کرے اور تعلقات استوار کرنے کے لیے شرائط عائد نہ کرے۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملنے کو تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ میں کسی بھی ایرانی لیڈر سے مل سکتا ہوں۔ میں ملاقاتوں پر یقین رکھتا ہوں، خاص طورپر ایسے حالات میں جب جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حمید ابو طالبی نے اپنی ٹوئیٹ میں کہ "ایرانی قوم کے حقوق کا احترام، معاندانہ کارروائیوں میں کمی اور جوہری معاہدے میں واپس آنا یہ وہ اقدامات ہیں جن کو ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کی مشکل راہ ہموار کرنے کی خاطر کرنا ہوں گے"۔

ادھر وہائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے اس سے پابندیوں کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایران کے حوالے سے سخت لہجہ اپنانے کا مقصد واضح ہے اور وہ ہے ایرانی حکومت کے برتاؤ میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنا۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جیرٹ مارکیز کے مطابق "پابندیوں میں نرمی صرف اُسی صورت ممکن ہو گی اگر تہران کی پالیسیوں میں نمایاں، واضح اور مستقل نوعیت کی تبدیلی نظر آئے"۔

یاد رہے کہ 1979ء میں امریکی حلیف شاہ ایران کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد واشنگٹن نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ اس کے بعد سے کسی امریکی صدر نے ایرانی رہ نماؤں کے ساتھ ملاقات نہیں کی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے 2013ء میں ایرانی ہم منصب حسن روحانی کو ٹیلیفون کال کر کے 3 دہائیوں سے تعلقات میں جاری جمود کو توڑ دیا تھا۔