.

اقوام متحدہ پینل کو ایران اور حوثیوں کے میزائلوں میں باہمی تعلق کے مزید شواہد مل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغی ابھی تک خود کو ایسے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے مسلح کررہے ہیں جن پر ایرانی ساختہ اسلحہ کے مشابہ خصائص پائے گئے ہیں۔

اس پینل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خفیہ رپورٹ پیش کی ہے۔اس میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایران سے یمن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی 2015ء میں عاید کردہ اسلحے کی پابندی کے بعد بھی منتقلی جاری رہی ہے۔

125 صفحات کو محیط اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ حال ہی میں حوثیوں کے استعمال کردہ میزائلوں اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سمیت جن ہتھیاروں کا معائنہ کیا گیا ہے ، ان میں اسلامی جمہوریہ ایران میں تیار کردہ اسلحہ کے نظام ایسے خصائص ظاہر ہوئے ہیں‘‘۔

پینل کے ارکان نے حال ہی میں سعودی عرب کا سفر کیا تھا اور وہاں حوثی ملیشیا کے یمن سے سعودی شہروں پر فائر کیے گئے دس میزائلوں کے ملبے کا معائنہ کیا تھا۔ان پر ایرانی ساختہ ہونے کے نشان لگے ہوئے تھے۔پینل نے اپنی رپورٹ میں اس سال جنوری سے جولائی تک سعودی شہروں پر چلائے گئے میزائلوں کے معائنے کی تفصیل بیان کی ہے اور لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کی یمن پر عاید کردہ اسلحے کی تجارت پر پابندی کے باوجود حوثیوں کی بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں تک رسائی جاری رہی ہے۔

پینل نے لکھا ہے کہ ’’اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ میزائل یمن سے باہر تیار کیے گئے تھے۔ان کو ٹکڑوں کی شکل میں بحری جہازوں کے ذریعے یمن منتقل کیا گیا تھا اور پھر حوثیوں نے خود انھیں ملک میں جوڑا تھا‘‘۔

ماہرین ایران کی جانب سے حوثیوں کو ماہانہ تین کروڑ مالیت کا ایندھن ملنے کی اطلاع کی بھی تحقیقات کررہے ہیں جبکہ ایران حوثیوں کو کسی قسم کی مالی امداد مہیا کرنے کی تردید کررہا ہے۔

میزائلوں کے ملبے کے معائنے کے دوران میں ماہرین کو ایک جاپانی کمپنی کے تیار کردہ پاور کنورٹرز بھی ملے تھے اور سیرلیک زبان میں لکھے نشان بھی ملے تھے جس سے ان کے روسی ساختہ ہونے کا پتا چلتا ہے۔ سعودی عرب سے اکٹھے کیے گئے مواد کی اب تحقیقات کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے جون میں سلامتی کونسل میں ایک الگ رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی عرب پر چلائے گئے پانچ میزائلوں کے حصے ایران میں تیار کیے گئے تھے۔تاہم اقوام متحدہ کے حکام اس بات کے تعیّن میں ناکام رہے ہیں کہ یہ میزائل کب یمن میں بھیجے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا پینل سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے طیاروں کے شہری عمارتوں ، ایک گیس اسٹیشن اور تجارتی بحری جہازوں پر سات فضائی حملوں کی بھی تحقیقات کررہا ہے۔ یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دیے جاسکتے ہیں۔