.

ایرانی معیشت گراوٹ کا شکار، صدر حسن روحانی وضاحت کے لیے پارلیمان میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان کے ارکان نے صدر حسن روحانی کو ایک ماہ کے اندر ایوان میں پیش ہوکر ملک کی روز بروز ابتر ہوتی اقتصادی صورت حال اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات کی وضاحت کے لیے کہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے ازسر نونفاذ کے بعد صدر حسن روحانی کو پارلیمان میں طلب کیا گیا ہے۔ان سے سخت گیر ارکان ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے پیش نظر کابینہ میں ردوبدل کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسپیکر علی لاری جانی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بدھ کو نشر کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ حسن روحانی کو ایک ماہ میں پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کرنا ہو گی اور مختلف معاشی ایشوز کے بارے میں وضاحت کرنا ہوگی۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق پارلیمان کے ارکان ایرانی ریال کی قدر سمیت مختلف موضوعات کے بارےمیں ان سے پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں۔اپریل کے بعد سے ایرانی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں نصف تک کمی واقع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ اقتصادی نمو کی شرح بہت کم ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ایرانی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے مئی میں علاحدگی کے بعد سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں ۔قانون ساز ان سے یہ بھی وضاحت چاہتے ہیں کہ مغرب سے دوسال قبل جوہری سمجھوتے کے بعد سے ایرانی بنکوں کو عالمی مالیاتی خدمات تک رسائی کیوں نہیں ملی ہے۔

ایران کی روز بروز ابتر ہوتی معیشت پر صدر حسن روحانی کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ایران میں اس سال کے اوائل سے مہنگائی ، پانی کی کمی ، بجلی کی کٹوتی اور مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔منگل کے روز اصفہان ، قرج ، شیراز اور اہواز سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے ریال کی قدر میں کمی کے بعد افراطِ زر کی شرح میں اضافے پر احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ صدر حسن روحانی سے پیشگی شرائط کے بغیر ملاقات کو تیار ہوں گے تاکہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ تاہم ایرانی حکام اور فوجی کمانڈروں نے اس پیش کش کو بے معنی اور ایک خواب قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر نے گذشتہ ہفتے مرکزی بنک کے نئے گورنر کا تقرر کیا تھا اور منگل کو حکومت کے ترجمان کا استعفا منظور کر لیا تھا۔بدھ کو پارلیمان کے 193 ارکان نے ایک خط میں صدر روحانی کے ان اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے اور حکومتی عہدوں میں مزید تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔