متحدہ عرب امارات میں تارکِ وطن ورکروں کو ’’ویزا استثنا‘‘ کی پیش کش کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے یا اجازت نامے سے زاید المیعاد رہنے والے تمام غیرملکی ورکروں کو ویزے سے استثنا کی پیش کش کا آغاز کردیا ہے۔

یو اے ای کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے غیر ملکی یا جو تارکِ وطن اپنے اپنے ویزے کی مدت ختم ہوجانے کے باوجود مقیم ہیں، وہ اگر 31 اکتوبر تک رضاکارانہ طور پر واپس چلے جاتے ہیں تو انھیں کوئی جرمانہ کیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

اس استثنا کا اطلاق ان غیر ملکیوں پر بھی ہوگا، جو یو اے ای میں کسی روز گار کی تلاش میں ہیں اور انھیں اس مقصد کے لیے چھے ماہ کا ویز ا جاری کر دیا جائے گا۔تاہم اس رعایت سے وہ غیرملکی استفادہ نہیں کرسکیں گے،جنھیں بلیک لسٹ قرار دیا جاچکا ہے یا جن کے خلاف یو اے ای کی عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔

یو اے ای کے پریس نے اس استثنا سے استفادے کے لیے آگے آنے والے نیلے رنگ کے مزدوروں کے بیانات شائع کیے ہیں۔اخبار گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والا 54 سالہ گرجا پرساد پہلا غیرملکی ہے ،جس کو ملک چھوڑنے کی صورت میں کسی قسم کے جرمانے سے استثنا دینے کے لیے کلیئر قرار دیا گیا ہے اور اس پر قسم کی کوئی پابندی بھی عاید نہیں کی جائے گی۔

گرجا پرساد یو اے ای میں ایک ٹائل کٹر کے طور پر کام کررہا تھا۔اس نے اخبار کو بتایا ہے کہ اس کا آجر اس کی اقامت کی مدت میں توسیع کے لیے بروقت کاغذات جمع کرانے میں ناکام رہا تھا اور اس دوران میں اس کے ویزے کی مدت ختم ہوگئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2016ء میں کل ملکی آبادی 91 لاکھ کے لگ بھگ تھی اور اس میں 63 لاکھ غیر ملکی افرادی قوت تھی۔ان میں پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تارکِ وطن ورکروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں