.

امریکی انتخابات میں روسی مداخلت بدستور جاری ہے: امریکی انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے انٹیلی جنس ڈائریکٹرنے ایک بار پھر روس پر امریکی انتخابات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے ماسکو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر ڈان کوٹز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں ہونے والے گرما گرم پارلیمانی انتخابات سے چند ماہ قبل بھی روس کی طرف سے انتخابی سرگرمیوں اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش جاری ہے۔

مسٹر کوٹز کا کہنا تھا کہ ’ہم اب بھی وسیع پیمانے پر روس کی طرف سےامریکا کو کم زور کرنے اور اس کی تقسیم کی سازشوں کو دیکھ رہے ہیں‘۔

ڈان کوٹز اور امریکی وزیرہ برائے قومی سلامتی کریسٹین نیلسن نے مبینہ ’روسی سائبر وار‘ اور امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی روسی کوششوں پر گہری نظر رکھنے کا عہد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ روس جیسے ہمارے حریف ممالک نہ صرف انتخابی عمل میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ وہ امریکا کو تقسیم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی طرف سے امریکا میں انتخابی عمل اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔

حال ہی میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کانگریس کو بھیجے ایک پیغام میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ انتخابات میں مداخلت کی روک تھام کے لیے تاریخی اور موثر اقدامات کررہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے پچھلے ماہ فن لینڈ کے دارالحکومت ھلسنکی میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے بھی ملاقات کی تھی۔