.

امریکی پابندیاں اور دھمکیاں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی کے وزیرخارجہ مولود چاووش اوگلو نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کو بتایا ہے کہ دھمکیاں اور پابندیاں ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے یہ بیان امریکا کی طرف سے ترکی کے دو وزراء پر پابندیاں عاید کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔

چاووش اوگلو نے سینگاپور میں مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے یہ کہتےآ رہے ہیں کہ پابندیاں اور دھمکیاں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ دھمکی آمیز بیانات اور پابندیاں ماضی میں کامیاب ہوئی اور نہ ہی آئند ہوں گی۔ ہم نے بار بار واضح کیا ہے کہ ترکی کو پابندیوں کے ذریعے نہ ڈرایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات میں شام میں ادلب، منبج اور دیگر کشیدہ علاقوں کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی اور دونوں رہ نماؤں نے حل طلب مسائل پرتبادلہ خیال کیا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ترکی کے وزیر انصاف عبدالحمید گل اور وزیر داخلہ سلیمان سوئلو کے خلاف پروٹیسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھنے والے پادری اینڈریو کریگ برونسن کو زیر حراست رکھنے کے الزام میں بدھ کو پابندیاں عاید کردی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرس کا کہنا ہے کہ ان دونوں ترک شخصیات نے پادری کی 2016ء میں گرفتاری اور پھر زیر حراست رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

امریکی اقدام کے ردعمل میں ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غلط فیصلے کو واپس لے‘‘۔اس نے امریکی اقدام کو ایک ’’ جارحانہ مؤقف‘‘ قرار دیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو کا ایک بیان ٹویٹ کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’امریکا کی ہمارے دو وزراء پر پابندیوں کے نفاذ کی کوشش کسی جواب کے بغیر نہیں رہے گی‘‘۔