.

یمن امن مذاکرات کا دور 6 ستمبر کو جنیوا میں ہو گا : گریفتھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ نے باور کرایا ہے کہ یمن میں امن کو یقینی بنانے کا موقع پایا جاتا ہے۔

جمعرات کے روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے گریفتھ نے بتایا کہ وہ "یمن میں سیاسی عمل کے فریقوں کو چھ ستمبر کو جنیوا میں مذاکرات کے ایک دور کی دعوت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز کی جانب واپسی آسان نہیں ہو گی۔ گریفتھ نے مختلف اطراف پر زور دیا کہ بات چیت کے آغاز کے لیے فضا سازگار بنائی جائے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ "یمن میں تصفیہ سیاسی حل کے ذریعے ہونا چاہیے"۔

گریفتھ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ "ہم اپنی کوششوں سے یمن میں متحارب فریقوں کے بیچ خلیج کو تنگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں"۔

الحدیدہ کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ "اس علاقے کی پیچیدگیاں یمن کے بحران کے حل تک پہنچنے کی راہ میں ہمارا راستہ نہیں روکیں گی"۔

سلامتی کونسل میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے زور دے دیا کہ "ایران نے حوثی ملیشیا کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اسے چاہیے کہ ذمّے داری قبول کرے"۔

سلامتی کونسل میں کویت کے مستقبل مندوب منصور العتیبی نے باور کرایا کہ "حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہوں نے بحری جہاز رانی کو نشانہ بنا کر ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے"۔

ادھر زمینی طور پر عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فوج نے صعدہ صوبے اور سعودی عرب کے بیچ باقم ضلعے کے نزدیک بین الاقوامی راستے پر کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یمنی فوج کئی روز سے باقم ضلعے کے مرکز کے اطراف پہاڑی سلسلے میں حوثی ملیشیا کے خلاف شدید لڑائی میں مصروف ہے۔ اس دوران اس نے ضلعے کے اطراف میں موجود ایک گاؤں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور پہاڑی علاقے سے حوثی ملیشیا کا صفایا کر دیا۔